Thursday, December 23, 2021

وٹامن ای کا استعمال انسانی صحت کے لیے کیوں ضروری ہے اور یہ اداکار اس کا استعمال باقاعدگی سے کیوں کرتے ہیں؟

 آج کل کی تیز رفتار زندگی اور اس کے دباؤ کے سبب انسان کا جسم جلد تھکن ، ڈپریشن کا شکار ہونے لگا ہے مردوں کے اندر گنچ پن اور ڈھلکتا ہوا جسم وقت سے پہلے ہونے لگا ہے تو دوسری جانب عورتیں بھی وقت سے پہلے ہی سن یاس یا مینو پاز کا سامنا کر رہی ہیں- ان کی خوبصورتی وقت سے پہلے ختم ہو جاتی ہے جلد کی چمک دمک ماند پڑنے لگی ہے بال کمزور اور روکھے ہوجاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ مختلف نسوانی مسائل کا شکار ہو رہی ہیں- ان تمام مسائل کا بنیادی سبب اگر ایک جانب ہمارا غیر صحت مند طرز زںدگی ہے تو دوسرا اس کا سب سے بڑا سبب جسم میں وٹامن ای کی کمی ۔ہے



وٹامن ای کیا ہے اور اس کا استعمال

وٹامن ای ہماری غذا کا ایک اہم جز ہے یہ عام طور پر ہری سبزیوں ،سویابین آئل ، سورج مکھی کے تیل اور ہرے پتوں میں پائی جانے والی سبزیوں میں پایا جاتا ہے اس کا استعمال دو طریقوں سےکیا جاسکتا ہے-وٹامن ای کا آئل چہرے کی خوبصورتی اور عمر کے اثرات کو روکنے کے لیے لگایا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ خوبصورتی بڑھانے والی تمام کریموں کا یہ لازمی جز ہوتا ہے- اس کے علاوہ اس کو کھانے کے کیپسول کی صورت میں بھی استعمال کیا جاتا ہے جو کہ صحت کے کئی مسائل کا حل ہوتا ہے عام طور پر 400 ملی گرام کا ایک کیپسول دن بھر کے لیے کافی ہوتا ہے اور اس کو صبح ناشتے کے دس منٹ کے بعد لینا مفید ہوتا ہے-


وٹامن ای کے فوائد

1: عمر کے اثرات کم کرتا ہے

رات کے وقت سونے سے قبل چہرے کو صاف پانی سے دھونے کے بعد وٹامن ای والے تیل کے چند قطرے کسی بھی کریم میں شامل کر لیں اور اس کو نرمی سے چہرے پر لگا دیں- اس سے ایک جانب تو جلد کی چمک دمک میں اضافہ ہوتا ہے جب کہ دوسری جانب یہ چہرے کی جلد کو نم کر کے جھریوں کے بننے کے عمل کو روکتا ہے-

2: چہرے پر بننے والی چھائیوں کا خاتمہ کرتا ہے

جلد پرپگمنٹ کی زیادتی کے سبب عام طور پر چھائیاں پڑ جاتی ہیں جن کو دور کرنے کے لیے وٹامن ای کو وٹامن سی کے ساتھ ملا کر چہرے پر لگانے سے نہ صرف چہرے پر موجود داغ دھبوں کا خاتمہ ہوتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایکنی میں بھی کمی واقع ہوتی ہے-

3: قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے

وٹامن ای کے کیپسول کا استعمال انسانی جسم کو بیماریوں سے لڑنے کی طاقت دیتا ہے اور اس کی قوت مدافعت کو بڑھا دیتا ہے-

4: بالوں کی صحت کے لیے

خوبصورت اور گھنے بال مرد اور عورت دونوں کی شخصیت کے لیے ضروری ہوتے ہیں اس لیے اس کا استعمال بالوں کو مضبوطی فراہم کرتا ہے اور ان کو لمبا اور گھنا بناتا ہے- اس کے علاوہ یہ وقت سے پہلے بالوں کے سفید ہونے کے عمل کو بھی روکتا ہے-

5: دل کے دورے کے خطرات کو کم کرتا ہے

وٹامن ای دل کی شریانوں کو خصوصی طاقت فراہم کرتا ہے اور اسی سبب اس کا استعمال دل کے دورے کے خطرے کو کم کر دیتا ہے-

6: کینسر کے خطرات کو کم کرتا ہے

جو لوگ باقاعدگی سے اپنی جلد پر وٹامن ای کا استعمال کرتے ہیں ان کی جلد کو الٹراوائلٹ شعاعوں کا مقابلہ کرنے کی خصوصی طاقت مل جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کے اندر جلد کے کینسر کا خطرہ کم ہو جاتا ہے-

7: اسقاط حمل کے خطرے کو کم کرتا ہے

خواتین کے اندر ہارمون کے سبب ماہواری میں ہونے والی بے قاعدگی اور اسقاط حمل کے خطرے کو روکنے میں وٹامن ای اہم کردار ادا کرتا ہے یہ رحم کو مضبوطی فراہم کر کے اسقاط حمل کے خطرے کو روک دیتا ہے-

8: پٹھوں کو طاقت فراہم کرتا ہے

عام طور پر بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری ہو جاتی ہے جو جسم میں درد کا باعث بن سکتی ہے ایسی صورت میں وٹامن ای کا استعمال پٹھوں اور اعصابی نظام کو طاقت فراہم کرتا ہے اور دور کا خاتمہ کرتا ہے -

9: نظام انہضام کا مضبوط کرتا ہے

انسانی جسم میں نظام انہضام کی درستگی اسے کئی بڑی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے وٹامن ای کا استعمال نظام انہضام کو درست رکھتا ہے-

10: جسم کو چاک و چوبند رکھتا ہے

تھوڑا سا چلنے کے بعد تھکن محسوس کرنے والے لوگ وٹامن ای کی کمی کا شکار بھی ہو سکتے ہیں ایسے افراد وٹامن ای کا استعمال کریں اس سے نہ صرف وہ چاک و چوبند رہ سکتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تھوڑا چلنے سے پیروں مین ہونے والے درد کا بھی خاتمہ ہوتا ہے-

سردی کے موسم کی کھانسی سے پریشان افراد مولی کو اس طرح استعمال کریں اور کھانسی سے نجات پائيں

 سردی کے موسم کی کھانسی سے پریشان افراد مولی کو اس طرح استعمال کریں اور کھانسی سے نجات پائيں



سردی کے موسم کی کھانسی سے پریشان افراد مولی کو اس طرح استعمال کریں اور کھانسی سے نجات پائيں

مولی ہمارے ملک میں سردی کے موسم میں آنے والی ایسی سبزی ہے جس کی جڑ کو کھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے- یہ ایک موسمی سبزی ہے جو کہ عام طور پر صرف اسی موسم میں آتی ہے مگر پہاڑی علاقوں میں یہ سارا سال بھی پائی جاتی ہے ۔ یہ فائدوں کے اعتبار سے اتنی خاص ہوتی ہے کہ اس کو مہنگے فائدوں والی سبزی کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے- یہ مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے مختلف انداز میں استعمال کی جاتی ہے- عام طور پر لوگ اس کو کچا ہی سلاد کے طور پر کھاتے ہیں اس صورت میں بھی یہ بہت مفید ہوتا ہے مگر آج ہم آپ کو اس کے کچھ ایسے خاص استعمال بتائيں گے جو کہ اس کی افادیت کو بڑھا دیتے ہیں-

1: پتے اور گردے کی پتھری کے لیے

عام طور پر پتے اور گردے کی پتھری کے سبب شدید درد ہوتا ہے اور ڈاکٹر اس کا علاج آپریشن ہی بتاتے ہیں مگر مولی کے صرف دو ہفتے تک استعمال سے یہ پتھری ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ختم ہو جاتی ہے- اس کے لیے ہر روز صبح دو ہفتے تک مولی کے رس کے دو کھانے کے چمچ نہار منہ پئيں اس سے پتھری ٹکڑے ٹکڑے ہو کر قدرتی طور پر نکل جاتی ہے-

2: یرقان کے مریضوں کے لیے

یرقان کے مریضوں کے لیے مولی کسی نعمت سے کم نہیں ہے کیوں کہ مولی جسم میں سے زہریلے مادوں کو خارج کر کے جگر کے افعال کو بہتر کرتا ہے- ایسے مریضوں کو مولی کے رس کا استعمال گڑ کے رس کے ساتھ ملا کر کرنا چاہیے اس سے نہ صرف یرقان کے اثرات ختم ہوتے ہیں بلکہ جگر صحت مند ہو جاتا ہے-

3: کھانسی کے لیے

کھانسی دو طرح کی ہوتی ہے جس میں سے ایک قسم خشک کھانسی کی ہوتی ہے جبکہ دوسری قسم بلغم والی کھانسی کی ہوتی ہے- مولی کا استعمال دونوں صورتوں مین مفید ثابت ہوتا ہے کیوں کہ یہ مغرج بلغم ہوتی ہے اس کے ساتھ ساتھ اس میں ایسے اجزا بھی موجود ہوتے ہیں جو کہ اندرونی سوزش کا خاتمہ کرتی ہے- اس لیے یہ خشک کھانسی کے لیے بھی مفید ہوتی ہے ایک چمچ مولی کے رس میں ہم وزن شہد شامل کر کے اس میں تھوڑا نمک ملاکر استعمال کرنے سے کھانسی میں فوری آرام حاصل ہوتا ہے-

4: کان کے درد کے لیے

کان میں ہونے والے درد کے لیے مولی کے رس کو ہم وزن روغن گل میں ابالیں اور اس وقت تک ابالیں جب تک کہ مولی کا پانی گرم ہو کر اڑ جائے اور صرف روغن گل رہ جائے- اس کے چند قطرے کان میں ٹپکانے سے کان کے درد کی صورت میں فوری آرام ملتا ہے-

5: قوت مدافعت بڑھاتی ہے

مولی کا استعمال ایک جانب تو ہاضمے کے عمل کو بہتر بناتی ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کے اندر موجود پوٹاشیم کی موجودگی اس کو ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوتی ہے- یہ عمومی صحت کو بحال کر کے انسان کی قوت مدافعت میں اضافہ کرتی ہے اور اس کو بیماریوں سے لڑنے کی طاقت فراہم کرتی ہے-

Tuesday, April 20, 2021

امتحانات کے دوران طلباء کے لیے ذہنی قوت بڑھانے والے 5 ضروری کھانے

 

مناسب کھانا کھانا دانش مندی ہے، کیا آپ نے لاکھوں بار یہ جملہ نہیں سنا؟

ٹھیک ہے ایسا ہی ہے، سچ یہ ہے کہ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ صحیح اور مناسب کھانا آپ کو دانش مند اور ذہین بناتا ہے۔

اس بات کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ مناسب کھانا کھانے سے آپ کے دماغ کو عمدہ غذائیت ملتی ہے اور آپ کی ذہنی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

کالج کے طلباء کے لیے اپنی اسٹوڈنٹ لائف میں تھکا دینے والی کلاسز اور دن رات کے مطالعے والی روٹین کے ساتھ زندگی کے اس مرحلے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔ کچھ مطالعات اور تحقیقی رپورٹس اس کی وضاحت کرتی ہیں کہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے آپ کے دماغ کو کس چیز کی ضرورت ہے۔

اگر ہم آپ سے پوچھیں کہ آپ اپنے کسی ٹیسٹ یا امتحانات کے دنوں میں اپنی ذہنی و جسمانی توانائی کو بڑھانے کے لیے کیا کھاتے یا پیتے ہیں، تو آپ کا جواب شاید انرجی ڈرنکس، شوگر سے لبریز اسنیکس، فیٹی یا لوکارب والی اشیا ہوں گی۔

تاہم یہ مضحکہ خیز اور اپنی صحت کو برباد کرنے کے مترادف ہے کیونکہ ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ ہم اس قسم کی اشیا کھانے پینے سے اپنے دماغ کو کس طرح سے غیر صحت مند  کر رہے ہیں جس کا نتیجہ ذہنی ناکارہ پن کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔

تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کالج کے طلبہ کے پاس ٹیسٹ یا کوئز سے پہلے کھانے کے بہترین آپشنز کیا ہیں؟

پڑھنے اور آن لائن کلاسیں لینے والے طلبا کے لیے، باقاعدہ کھانے یا ہلکی پھلکی غذا لینے کے آپشنز اتنے ہی اہم ہیں جتنا ان کے پاس جسمانی کلاسیں لینے کا انتخاب ہے۔

یہاں ہم نے پانچ ایسے عمدہ کھانے اور اسنیکس مرتب کیے ہیں جن کے بارے میں نیوٹریشنسٹس نے دماغ کے لیے مناسب خوراک تلاش کرنے کی تجویز کی ہے۔

تیل والی مچھلی، بیج اور گری دار میوے

امتحانات کے دوران طلباء کے لیے ذہنی قوت بڑھانے والے 5 ضروری کھانے

کچھ سمندری غذائیں یعنی سی فوڈز اومیگا 3 فیٹی آئل سے مالا مال ہوتی ہیں۔ سالمن، ٹراؤٹ، میکریل، ہیرنگ، سارڈینز، پیلچارڈس اور کیپرز صحت مند دماغی کام کے لیے ضروری آپشنز میں سے کچھ ہیں۔ اومیگا 3 کی کمی آپ کو تھکاوٹ اور ناقص یادداشت کا شکار کرسکتی ہے جو یونیورسٹی کے طالب علم کے لیے پریشانی کا باعث ہوسکتی ہے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کا جسم اومیگا 3 پیدا نہیں کرتا، لہٰذا آپ کو اسے اپنی غذا میں شامل کرنا ہوگا یعنی ایسی غذائوں کو اپنی خوراک میں شامل کریں جن میں اومیگا 3 پایا جاتا ہو۔ اور اگر آپ کو سمندری غذا پسند نہیں ہے تو پریشان نہ ہوں، ہمارے پاس اومیگا فیٹس 3 کا متبادل بھی موجود ہے۔ یہ السی یا فلیکسیڈ آئل، سویا بین آئل اور کدو کے بیجوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اخروٹ بھی اومیگا 3 سے بھرپور ہوتے ہیں، جو دل کو صحت مند اور سوزش سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ  صحت بخش غذائی اجزاء سے بھرے ہوئے اخروٹ خون کے بہاؤ کو بہتر کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں، دماغ کو زیادہ آکسیجن فراہم کرتے ہیں اور اس قابل بناتے ہیں کہ آپ اسسمنٹ کی تیاری کر سکیں۔

مٹھی بھر بیریز

امتحانات کے دوران طلباء کے لیے ذہنی قوت بڑھانے والے 5 ضروری کھانے

اسٹرابیری ابھی بھی سیزن میں ہیں اور جب یہ امتحانات کا وقت بھی ہے تو آپ کو چاہیے کہ اسٹرابیریز کھائیں جو آپ دماغ کو پاور بوسٹر دینے میں مدد کریں گی۔ بلیو بیری یا اسٹرابیری جیسے اینٹی آکسیڈینٹ سے بھرپور پھل فری ریڈیکلز کو کنٹرول میں رکھتے ہیں اور عمر کے ساتھ پیدا ہونے والی پریشان کُن ذہنی حالتوں کو دور کرتے ہیں۔

وٹامن سی سے بھرپور، صحت بخش ناشتے اور کھانے کھانے سے ذہنی قوت اور مشاہدے میں اضافہ ہوتا ہے، جو ایک طالب علم کے لیے آن لائن یونیورسٹی، امتحانات اور کورس ورکنگ کو احسن طریقے سے سر انجام دینے کے لیے ضروری ہے۔

بیر اور پھل بھی صحتمند شوگر سے مالا مال ہیں، جو آپ کو چاق و چوبند رکھنے اور توجہ دینے کی صلاحیت کو بڑھانے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔ اسے ذہنی توانائی کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن براہ کرم ہماری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں، جب ہم یہ کہتے ہیں کہ چینی کا مطلب آپ کی کینڈی، ڈبے والے جوس، یا آپ کا پسندیدہ سیریل نہیں ہے۔ اصل میں اس کا مطلب ہے کہ آپ کے جسم کی ضرورت کے مطابق گلوکوز آپ کو صحت مند اور قدرتی کاربوہائیڈریٹ کے ذرائع جیسے پھلوں اور تازہ جوس سے ملتا ہے۔

ڈارک چاکلیٹ بار

امتحانات کے دوران طلباء کے لیے ذہنی قوت بڑھانے والے 5 ضروری کھانے

ہاں، آپ نے اسے صحیح پڑھا یہ چاکلیٹ کا ایک بار ہے لیکن ذرا توقف کریں، یہ آپ کی ڈیری شوگر والی اور ذائقہ دار چاکلیٹ بار نہیں ہے۔ یہاں ڈارک کا مطلب کم شوگر ہے۔ لیکن ہم آپ کو یہ بھی مشورہ نہیں دے رہے ہیں کہ آپ اسے اپنے مطالعے کے لیے اسنیک بنالیں۔ اس کے بجائے اعتدال میں اسے کھایا جاسکتا ہے۔ ڈارک چاکلیٹ آپ کے دماغ کو تقویت بخش سکتی ہے اور آپ کو توجہ مرکوز کرنے میں مدد کرتی ہے۔

ہارورڈ کے ایک حالیہ مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ڈارک چاکلیٹ آپ کے دماغ میں بلڈ پریشر کو کم کرنے، خون کے بہاؤ کو بڑھانے اور دماغ کو مزید ایندھن لینے میں مدد فراہم کرسکتی ہے۔

اپنے امتحانات سے قبل ڈارک چاکلیٹ کا ایک ٹکڑا کھانا آپ کے دماغ کے لیے بطور انرجی بوسٹر مددگار ثابت ہوسکتا ہے جس سے آپ کو نہ صرف راحت ملتی ہے بلکہ توجہ مرکوز کرنے اور دھیان برقرار رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

ھول گرین بریڈ

امتحانات کے دوران طلباء کے لیے ذہنی قوت بڑھانے والے 5 ضروری کھانے

جب ہم اپنی جسمانی فلاح و بہبود اور صحت کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ھول گرین لازمی اجزاء کے طور پر نکل کر سامنے آتا ہے جو مجموعی طور پر صحت اور تن درستی کی ضمانت پیش کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ھول گرین یا سالم اناج میں موجود پیچیدہ کاربوہائیڈریٹ میں گلائسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے، لہٰذا وہ آہستہ آہستہ ہضم ہوتے ہیں اور بدن میں تھوڑا تھوڑا گلوکوز چھوڑتے رہتے ہیں۔ سالم اناج ایک طویل مدت کے لیے آپ کے دماغ کو توانائی فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

مطالعات اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ ایک طالب علم جس نے اپنی غذا میں سالم اناج شامل کیا ہے اس کے پاس تادیر بحال رہنے والی توانائی ہوسکتی ہے اور وہ امتحانات کے طویل دنوں کی تیاری یا امتحانات کے دوران اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔ سالم اناج میں موجود ریشہ انسانی جسم میں کولیسٹرول کو متوازن رکھتا ہے اور دماغ اور دوسرے اعضاء میں خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں بھی مدد کرتا ہے۔

اپنے ناشتے میں سالم اناج لینا بہت اچھا ہے، جو دن کا سب سے اہم کھانا ہوتا ہے اور دن بھر آپ کے دماغی ایندھن کو محفوظ رکھ کر آپ کی ذہنی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔

ٹماٹر، بروکولی، پالک

امتحانات کے دوران طلباء کے لیے ذہنی قوت بڑھانے والے 5 ضروری کھانے

جب مشہور زمانہ کارٹون کردار پوپئے اپنے جسم کو توناائی دینے کے لیے پالک کھاتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس سے اسے انرجی بوسٹر ملتا ہے۔ پالک کی طرح ٹماٹر اور بروکولی بھی جسمانی صحت کے لیے بہت ضروری ہیں۔

ان تینوں چیزوں میں آئرن اور دیگر غذائی اجزاء بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں اور یہ ایک اعلیٰ توانائی کا بوسٹر پیک ہے جو آپ کے دماغ کی علمی افادیت کو برقرار رکھنے اور آپ کو توجہ مرکوز رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

اگر آپ اپنی گروسری خود ہی خریدتے ہیں تو یہ سپر فوڈز ہمیشہ آپ کی خریداری کی فہرست میں شامل ہونے چاہئیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ آپ اپنے امتحانات کے لیے سخت مشقت سے تیاری کرتے ہیں اور متوقع نتیجہ نہ ملنے کا صدمہ آپ پر تھکاوٹ، مایوسی اور ذہنی دباؤ ڈال سکتا ہے۔

صحت مند غذائوں کا استعمال آپ کے دماغ کو معیاری ایندھن فراہم کرتا ہے جبکہ آپ کی محنت کے ساتھ مل کر یہ آپ کو بہترین نتیجہ دے سکتا ہے۔

جب آپ یہ تمام ضروری چیزیں اپنے روزمرہ کھانے میں شامل کر رہے ہیں، تو کیا کوئی دوسرا کھانا ہے جو آپ کے لیے اپنی توانائی بڑھانے میں مدد کرتا ہے؟ تبصرے کے سیکشن میں ہمارے ساتھ ضرور شئیر کریں۔


Wednesday, April 14, 2021

الرجی ایک عام پائے جانے والی تکلیف دہ بیماری ہے جس میں مبتلاء شخص کو تکلیف کے ساتھ شرمندگی بھی اٹھانی پڑتی ہے اور اس کے ساتھ موسم کے بدلاؤسے اس میں شدت بھی پیدا ہوتی ہے اس لئے اس کا علاج بروقت کرانا ضروری ہوتا ہے

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )الرجی ایک عام پائے جانے والی تکلیف دہ بیماری ہے جس میں مبتلاء شخص کو تکلیف کے ساتھ شرمندگی بھی اٹھانی پڑتی ہے اور اس کے ساتھ موسم کے بدلاؤسے اس میں شدت بھی پیدا ہوتی ہے اس لئے اس کا علاج بروقت کرانا ضروری ہوتا ہے تا کہ

مزید پھیلاؤ سے محفوظ رہا جاسکے ۔ الرجی صرف جلد پر خارش ہونے کو نہیں کہتے ہیں بلکہ دوسری بیماریوں کی طرح الرجی بھی ایک عام بیماری ہے جو جینیاتی خرابی کی وجہ سے قوت مدافعت کمزور پڑنے کے سبب پیدا ہوتی ہے اور یہ جسم پر آہستہ آہستہ اپنا اثر دکھاتی ہے۔آج ہم آپ کے لئے الرجی کا ایک ایسا زبردست علاج لائے ہے کہ جس نے اس کو استعمال کیا ہے اس نے اس کی تعریف کی ہے ۔ اس نسخہ کو بنانے کے لیے ایلویرا جیل اور اس کے ساتھ مچھلی کا تیل چاہئے ہوتا ہے ۔بنانے اور استعمال کا طریقہ:اس کو بنانا نہایت آسان ہے آدھا کپ ایلویرا کا جیل حاصل کریں اور اس میں مچھلی کا تیل 2 چائے کا چمچ ڈالیں اور ان کو یکجان کریں ۔ اس کو دن میں حسب ضرورت متاثرہ جگہ پر لگائیں یا رات کو سونے سے پہلے نیم گرم پانی سے نہائیں اور پھر جسم کو خشک کرنے کے بعد اس آئل کو استعمال کریں اس سے ہر طرح کی الرجی ختم ہو جاتی ہے۔


 ٹوکیو: یونیورسٹی آف سوکوبا کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اگر باقاعدہ ورزش کی جائے اور وزن کم کیا جائے تو اس سے جگر کی بظاہر عام لیکن خطرناک بیماری ’نان الکوحلک فیٹی لیور‘ بیماری میں کمی کی جاسکتی ہے۔ مطلب یہ کہ ورزش جگر کے لیے بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

دنیا میں چوتھائی سے زائد آبادی ’نان الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز (این اے ایف ایل ڈٰی) کی شکار ہے لیکن یہ کیفیت آگے چل کرجگر کی مزید بیماریوں کی وجہ بن سکتی ہے۔ یہاں تک کہ جگر فیل بھی ہوسکتا ہے۔ اس طرح ورزش اس کیفیت کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔


صرف جاپان میں ہی درمیانی عمر کے 41 فیصد افراد این اے ایف ایل ڈی میں مبتلا ہے۔ اس کے لیے سوکوبا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے پروفیسر جیونیکی شودا نے این اے ایف ایل ڈی میں مبتلا کئی افراد کو غذائی پلان دیا اور انہیں ورزش بھی کروائی۔ اس میں جگر کے کئی عوامل مثلاً ایڈائپوز ٹشو میں کمی، پٹھوں کی قوت، جلن اور آکسیڈیٹوو اسٹریس اور خاص جینز (این آر ایف ٹو) کی سرگرمی کو نوٹ کیا گیا۔انکشاف ہوا کہ ورزش سے ایک جانب تو پٹھے مضبوط ہوئے اور بڑی حد تک بدن کی چربی میں کمی واقع ہوئی۔ اس طرح جگر اسٹیٹوسِس یں 9 فیصد، جگر کی سختی میں قریباً 7 فیصد کمی واقع ہوئی۔ ایک قسم کے لیور فائبروسِس میں 16 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔

ورزش کی بدولت جگر کے کئی مفید کیمیکل بڑھے اور جگر کو سرگرم رکھنے والے کیوپفر خلیات میں بھی اضافہ ہوا۔ پروفیسر جیونیکی شودا کہتے ہیں کہ ورزش کے جگر پر فوائد بالکل واضح ہیں۔ یہ این اے ایف ایل ڈی کی کیفیت میں فائبروسِس اور لیور اسٹیٹوسِس کو روکتی ہے۔

لیکن ماہرین کا مشورہ ہے کہ بہتر فوائد کے لیے ضروری ہے کہ سخت یا درمیانی شدت کی ورزش کی جائے جس کے فوائد جلد ہی سامنے آنے لگتے ہیں۔

Tuesday, April 13, 2021

بدلتے ہوئے ماحول کا نفسیاتی دباؤ، روزگار کا دباؤ، گھریلو ذمے داریاں اور معاشرتی امور ملکر خواتین کی صحت پر برا اثر ڈال رہے ہیں اور وہ امراضِ قلب بالخصوص کارڈیو ویسکیولر بیماریوں کی شکار ہورہی ہیں۔ ۔

 رہا ہے۔ فوٹو: فائل

پنسلوانیا: بدلتے ہوئے ماحول کا نفسیاتی دباؤ، روزگار کا دباؤ، گھریلو ذمے داریاں اور معاشرتی امور ملکر خواتین کی صحت پر برا اثر ڈال رہے ہیں اور وہ امراضِ قلب بالخصوص کارڈیو ویسکیولر بیماریوں کی شکار ہورہی ہیں۔

یہ مطالعہ ڈریکسل یونیورسٹی میں واقع ڈورنسائف اسکول آف پبلک ہیلتھ کے سائنسدانوں نے کیا ہے۔ اس مطالعے میں ملازمت اور معاشرتی دباؤ کا بطورِ خاص مطالعہ کیا ہے۔ یعنی معاشرتی رابطے اور رشتے نبھانے کا کرب اور کام کی پریشانی مجموعی طور پر دوہری چوٹ کا کام کرتی ہیں اور اس طرح خواتین میں دیگر کے مقابلے میں دل کا مریض بننے کا خطرہ 21 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہ تحقیق امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ شریکِ حیات کی موت، طلاق و علیحدگی، گھر یا سسرالیوں کے طعنے تشنے، سماجی دباؤ جیسے نفسیاتی عوامل انفرادی طور پر خواتین کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دفتر کا زہریلا ماحول، کام کا دباؤ، ناانصافی اور دیگر مسائل خواتین کو مزید مایوسی اور بیماری کی جانب دھکیلتے ہیں۔ یہ کیفیات الگ الگ 9 سے لے کر 12 فیصد تک دل کی بیماریوں کی وجہ بن سکتے ہیں۔


اس مطالعے میں 80 ہزار سے زائد خواتین کا جائزہ لیا گیا جو سن یاس (مینوپاز) سے گزرچکی تھیں۔ ان سب کا 1991 سے 2015 تک جائزہ لیا گیا ہے۔ وقفے وقفے سے ان خواتین میں معاشرتی نفسیاتی دباؤ، بالخصوص ملازمت کا تناؤ دیکھا گیا اور دیگر معاشرتی عوامل کا جائزہ بھی لیا گیا۔

پورے مطالعے کے 14 برس میں 5 فیصد خواتین دل کی مریضہ بن چکی تھیں۔ ان میں تمام عوامل کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ معاشی اور ملازمتی دباؤ کا اس بیماری میں 12 فیصد کردار ہے یعنی یہ عوامل مرض کے امکان کو 12 فیصد تک بڑھا سکتے ہیں۔ معاشرتی دباؤ کا کردار 9 فیصد دیکھا گیا۔

امریکہ میں خون کی رگوں کے امراض اموات کی بڑی وجہ ہیں۔ اس میں دل کی بڑی نالیاں سکڑ جاتی ہیں یا بند ہوجاتی ہیں اور خون دل تک آکسیجن اور خون نہیں پہنچ پاتا۔ تاہم اس پہلو کی پرانی تحقیقات سے بھی تصدیق ہوتی ہیں جن میں ملازمتی دباؤ کو خواتین کے لیے بہت نقصاندہ بتایا گیا تھا۔

ماہرین نے خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو وہ کام کے دباؤ اور معاشرتی تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کریں۔

Sunday, April 11, 2021

ادرک کئی بیماریوں کا شفا بخش علاج۔۔۔



غذائیت اور فوائد سے بھرپور جڑ کی شکل والی یہ سبزی انسانی صحت کے لئے کئی فوائد اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
زکام،فلو،گلے کی خراش
ادرک بہت سارے ایشیائی ممالک میں سردی اور فلو کے خلاف قدرتی دوا کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔جرنل آف ایتھنوفرماکولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تازہ ادرک میں سانس کی نالیوں کے انفیکشن کے خلاف اینٹی وائرل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

یہ گلے کی سوجن اور کھانسی سے نجات دلانے کے لئے چائے کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔
متلی کی کیفیت سے نجات
نیوٹریشن جنرل کی تحقیق کے مطابق ادرک کا استعمال متلی اور قے کی کیفیت سے نجات دیتا ہے۔زمانہ قدیم سے اسے معدے کے مسائل اور سمندری سفر کے دوران طبیعت کی خرابی دور کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

ہاضمے کے لئے مفید
ادرک کو نظام ہاضمہ کو درست رکھنے کے لئے چینی طب میں نمایاں مقام حاصل ہے۔

یہ شوگر کی اعلیٰ سطح کو منظم کرنے اور پیٹ کو آرام فراہم کرنے میں مدد کرتا ہے۔کھانے میں موجود جسم کے لئے مفید اجزاء کو علیحدہ کرنے میں بھی ادرک کارآمد ہے۔
گیس کے مسائل
گیس کے مسائل میں مبتلا افراد ادرک کے استعمال سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ادرک کا چھوٹا سا ٹکڑا چبانے سے جسم میں موجود غیر ضروری گیس فطری طریقے سے خارج ہو جاتی ہے جبکہ اس کے روزانہ استعمال سے اضافی گیس بھی نہیں بنتی۔


جگر کے لئے مفید
ٹیوبر کلاسیس (ٹی بی) کی بیماری میں مبتلا افراد ادرک کے استعمال سے بہت فوائد اٹھا سکتے ہیں کیونکہ یہ ہیپا ٹو ٹو کسیٹی سے بچاتی ہے۔
موٹاپے سے بچائے
ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ادرک وزن میں کمی کرنے کے عمل کو تیز کرتا ہے اور موٹاپے کے خلاف آپ کی میٹابولزم کو بھی مضبوط کرتا ہے۔


دل کی صحت کے لئے مفید
ادرک جسم میں کولیسٹر آئل کے لیول کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے دل کی صحت اچھی رہتی ہے۔
ذیابیطس کو کنٹرول کرے
ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا افراد میں ادرک بلڈ شوگر کی سطح کو منظم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
جلد کے لئے مفید
ادرک کی چائے کا روزانہ استعمال کئی دیگر بیماریوں کے ساتھ ساتھ جلد کی بیماریوں سے بچاتا ہے۔


دمہ میں آرام
صدیوں سے ادرک کو تنفس کے مسائل کا حل سمجھا جاتا ہے۔جدید سائنسی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ادرک سانس کی نالیوں میں موجود سوزش کو ختم کرتی ہے جس کے نتیجے میں دمہ میں افاقہ ہوتا ہے۔
ادرک کی چائے
کئی لوگ گھروں میں ادرک کی چائے کئی طریقے سے بناتے ہیں اور تقریباً سارے ہی ٹھیک ہیں۔

اس آرٹیکل میں ایک آسان طریقہ درج ذیل ہے۔تازہ ادرک کو اچھی طرح دھو کر صاف کر لیں۔اسے چھیلنے کی ضرورت نہیں،اسے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں ایک کپ چائے کے لئے ایک انچ ادرک کا ٹکڑا کافی ہے۔کسی برتن میں ایک سلائس ادرک اور ایک کپ پانی ڈال کر تیز آنچ پر پانی میں اُبال آنے تک پکائیں اور جب پانی اُبلنے لگے تو آنچ کو ہلکا کر دیں اور پانچ منٹ تک یا اگر تیز ذائقہ چاہتے ہیں تو دس منٹ تک پکائیں اور پھر کسی موٹی چھلنی میں اسے چھان لیں۔ادرک کا قہوہ تیار ہے۔

بہت عرصہ تک کاجل لگائیں تو آنکھوں کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔۔۔کاجل کے نقصانات جو ہم نہیں جانتے

بہت عرصہ تک کاجل لگائیں تو آنکھوں کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔۔۔کاجل کے نقصانات جو ہم نہیں جانتے زمانہ قدیم سے میک اپ اور خوبصورتی کو بڑھانے ک...