Monday, December 27, 2021

بہت عرصہ تک کاجل لگائیں تو آنکھوں کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔۔۔کاجل کے نقصانات جو ہم نہیں جانتے

بہت عرصہ تک کاجل لگائیں تو آنکھوں کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔۔۔کاجل کے نقصانات جو ہم نہیں جانتے



زمانہ قدیم سے میک اپ اور خوبصورتی کو بڑھانے کے لئے کاجل کا استعمال دیکھا گیا ہے۔۔۔ یہ کاجل اور سرمہ نظر بٹو کے طور پر بھی لگایا جاتا ہے اور کچھ کہتے ہیں کہ بچے کی آنکھوں میں لگایا جائے تو آنکھیں بڑی ہوجاتی ہیں۔۔۔نوے فیصد مائیں گھر کے بڑوں کے کہنے پر ہی بچے کو کاجل لگاتی ہیں۔                                                                           ۔۔
 
شادیوں میں تو باقاعدہ دلہا کی بھابھیاں اس کی سرمہ لگائی بھی کرتی ہیں۔۔۔۔کچھ لڑکیوں کا تو سنگھار ہی کاجل کے بغیر ادھورا ہے۔۔۔ لیکن کیا یہ کاجل اور سرمہ ہماری آنکھوں کے لئے محفوظ ہے۔۔۔اس کا جواب ہے کہ بہت زیادہ استعمال ہماری آنکھوں کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔۔۔
 
کاجل میں ایک بہت بڑی مقدار لیڈ کی موجود ہوتی ہے جو اگر آنکھوں میں بہت زیادہ جمع ہوجائے تو مختلف آنکھوں کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں                                         ۔۔۔



کچھ لوگوں کو یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کو یا بچے کو کاجل سے الرجی بھی ہو سکتی ہے۔۔۔ وہ اس کا استعمال بند نہیں کرتے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ چھوٹے بچے جن کی عمر چھے ماہ سے کم ہوتی ہے اور ان کی آنکھوں کا پانی اور آنسو بن رہے ہوتے ہیں وہ کاجل کی سختی کو بہت مشکل سے برداشت کر پاتے ہیں۔                                                     ۔۔
 
کاجل لگانے والے بہت سارے لوگوں کا جب سروے کیا گیا تو تحقیق سے ثابت ہوا کہ کاجل لگانے والے بچے یا بڑے آنکھوں میں جلن کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان کی آنکھوں عموماً خشک ہوتی ہیں اورمختلف چھوٹے بڑے بوائل بھی بن جاتے ہیں آنکھوں میں                                                              ۔۔۔
 
آنکھ کے پپوٹوں پر گلینڈز بھی بن سکتے ہیں کاجل کے زیادہ استعمال سے                                                               ۔۔



بہت چھوٹی عمر میں جب بچے کی آنکھ میں کاجل ڈالتے ہیں تو اسے کئی طرح کے انفیکشنز بھی ہوسکتے ہیں۔۔۔چھوٹے بچے کے لئے والدین اس کا استعمال کم سے کم کریں کیونکہ یہ ان کی آنکھوں کو آگے کے لئے مزید نقصان پہنچا سکتا ہے اور بینائی کے مسائل کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔۔۔کاجل لگائیں ضرور لیکن بہترین کمپنی کا اور بہت احتیاط کے ساتھ۔۔۔

Saturday, December 25, 2021

اگر آپ کے ہاتھ پاؤں بار بار سن ہو رہے ہیں تو اس کیفیت کو معمولی نہ سمجھیں یہ ان خطرناک بیماریوں. کی نشانی ہوسکتی ہے

 

اگر آپ کے ہاتھ پاؤں بار بار سن ہو رہے ہیں تو اس کیفیت کو معمولی نہ سمجھیں یہ ان خطرناک بیماریوں. کی نشانی ہوسکتی ہے


کسی بھی ایک پوزیشن پر کافی دیر تک ہاتھ یا پاؤں رکھنے کے سبب وہ سن ہو جاتے ہیں اور ان کو حرکت دینے پر نہ صرف سنسناہٹ محسوس ہوتی ہے بلکہ حرکت دینے پر تکلیف بھی محسوس ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جاتی ہے- کبھی کبھار ہونے والی یہ کیفیت کسی نہ کسی نس کے دب جانےکے سبب ہوتی ہے جو کہ خطرے کی بات نہیں ہے- لیکن اگر یہی کیفیت بار بار ہو تو یہ علامت کچھ بڑی بیماریوں کا بھی سبب ہو سکتی ہے جن کے بارے میں ہم آپ کو آج بتائيں گے-
 
                                                                 ۔1: ذیابطیس
ذیابطیس یا شوگر کی بیماری میں خون میں شوگر کی مقدار میں اضافے کا براہ راست اثر اعصاب پر پڑتا ہے جس کے سبب ان میں کمزوری واقع ہو جاتی ہے جس کی وہ سے ہاتھ اور پیر سن ہو جاتے ہیں اور ان میں چبھن اور سنسناہٹ محسوس ہوتی ہے- اس وجہ سے اگر بار بار ہاتھ پاؤں سن ہوں تو اس صورت میں فوری طور پر شوگر چیک کروا لینی چاہیے-
 
                              ۔2: دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے مرض
بعض اوقات دماغ یا ریڑھ کی ہڈی کے کچھ حصے سخت ہو کر یا پھر ان میں کسی قسم کی رسولی بن جاتی ہے جس کو ملٹی پل اسکلیرسس بھی کہا جاتا ہے- اس بیماری میں ہاتھ اور پیر بیٹھے بٹھائے سن ہو جاتے ہیں- یہ ایک لاعلاج بیماری ہے جس کو مختلف قسم کی ورزشوں اور فزیو تھراپی سے بہتر بنا سکتے ہیں-

:                                                                          3=فالج
اگر بیٹھے بٹھائے ہاتھوں پیروں میں کمزوری محسوس ہو اور سر میں درد کے ساتھ ساتھ بولنے میں دشواری ہو رہی ہو تو اس کا مطلب ہے کہ کسی وجوہ کی بنا پر دماغ کو خون کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے اور یہ فالج کی بیماری کی ابتدائی علامات بھی ہو سکتی ہیں- اس لیے ایسی حالت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے-
 
                                                       ۔4: وٹامن کی کمی
وٹامن بی اور وٹامن بی 12 کی کمی کے سبب عام طور پر تھکن ، سانس لینے میں دشواری کے ساتھ ساتھ ہاتھ پاؤں کا ٹھنڈا پڑ جانا اور سن ہو جانے کی علامتیں بھی شامل ہیں اس صورت میں ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق وٹامن بی کا       سپلیمنٹ کا استعمال مفید ثابت ہو سکتا ہے-

: گردوں کا ناکارہ ہونا                                               ۔5
انسانی جسم میں گردے بہت اہم کردارادا کرتے ہیں اور ان کے ذمے سارے جسم کے فاضل مادوں کا اخراج شامل ہوتا ہے- اگر گردے اپنا یہ فعل مناسب انداز میں ادا نہ کر سکیں تو یہ زہریلے مادے جسم میں جمع ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہاتھ پاؤں بار بار سن ہونا شروع کر دیتے ہیں- اس وجہ سے اگر ہاتھ پاؤں سن ہونے کے ساتھ ساتھ جسم میں سوجن بھی ہو اور متلی کی تکلیف کا بھی سامنا ہو تو اس صورت میں گردوں کا ٹیسٹ ضرور کروا لینا چاہیے

ٹوٹتے بالوں کے لئے زندگی کا پیغام ہے یہ شیمپو۔۔۔اب طرح طرح کے شیمپو گھر میں بنائیں

 

ٹوٹتے بالوں کے لئے زندگی کا پیغام ہے یہ شیمپو۔۔۔اب طرح طرح کے شیمپو گھر میں بنائیں...


بال مرد و عورت دونوں کے لئے خوبصورتی اور اعتماد کی ایک پہچان ہیں۔۔۔ان بالوں کی حفاظت کا ایک اہم حصہ ہیں شیمپو جس کی وجہ سے نا صرف بال محفوظ رہتے ہیں بلکہ صاف بھی رہتے ہیں۔۔بازار میں موجود شیمپو بالوں کی ساخت کو کمزور کر دیتے ہیں ۔۔۔اس لئے گھر میں بھی بہترین .شیمپو بنائے جا سکتے ہیں                                              ۔     
 
                                        بالوں کو گھنا کرنے والا شیمپو

اس شیمپو کو بنانے کے لئے آپ دس گرام لکس یا کیپری کا صابن لے لیں، یا پھر کوئی ایسا صابن لیں جس میں خوشبو نا ہو۔۔۔اب اس میں دو چمچے گھیگھوار کا جوس ملائیں، ایک چائے کا چمچہ شہد، گلاب کا تیل تھوڑا سا، لیموں کا عرق اور لیسیتھیں ڈال کر مکس کرلیں۔۔۔یہ شیمپو آپ روزانہ استعمال کر سکتے ہیں اور وہ بال جو مسلسل ٹوٹ رہے ہوں اور گر رہے ہوں ان کے لئے تو یہ ایک خاص تحفہ ہے           

                                          خشکی ختم کرنے والا شیمپو
اکثر سر میں خشکی کے لئے بازار میں طرح طرح کے شیمپو ملتے ہیں لیکن نا تو اس میں کوئی اثر ہوتا ہے اور نا ہی وہ بالوں کے لئے مناسب ہوتے ہیں۔۔۔گھر میں ایک ایسا شیمپو بنائیں جو آپ کے بالوں کی حفاظت بھی کرے اور خشکی کو جڑ سے ختم بھی کرے۔۔۔ایک سو پندرہ ملی لیٹر پانی کو الگ کرلیں۔۔۔اب اس میں دو انڈوں کی زردیاں مکس کرکے پھینٹیں۔۔۔اس آمیزہ سے ہی اپنا سر دھوئیں اور سر کو صاف کرنے کے لئے دو سو پچیس ملی لیٹر پانی میں دو چائے کے چمچے سرکہ ملا کر پھر سر کو باقاعدہ دھو لیں۔۔۔ خشکی دنوں میں غائب ہوجائے گی                                         ۔ 


                                      بالوں میں چمک لانے والا شیمپو۔۔
بالوں کو مسلسل باہر کے شیمپو سے دھونے سے بال روکھے ، پھیکے اور بے رونق ہوجاتے ہیں۔۔۔چاہے شیمپو کتنا ہی قیمتی کیوں نا ہو بال آہستہ آہستہ اپنی خوبصورتی کو کھو دیتے ہیں۔۔۔ اگر آپ گھر میں ا یک شیمپو بنا کر استعمال کریں گے تو بال نا صرف گھنے ہوں گے بلکہ چمکدار بھی ہوجائیں گے۔۔۔اس کے لئے دو سو گرام ریٹھا، سو گرام سیکا کائی، سو گرام آملہ اور چند میتھی دانے ملا کر پیس لیں اور اسے شیمپو کی طرح استعمال کریں۔۔۔عادت بننے میں وقت لگے گا لیکن نتائج دیکھ کر آپ اسے چھوڑ نہیں پائیں گی۔

اگر آپ بھی ٹھنڈا کھانا کھاتے ہیں تو محتاط ہوجائیں آپ کی یہ عادت آپ کو صحت کے کن مسائل کا شکار کرسکتی ہے جانیں

اگر آپ بھی ٹھنڈا کھانا کھاتے ہیں تو محتاط ہوجائیں آپ کی یہ عادت آپ کو صحت کے کن مسائل کا شکار کرسکتی ہے جانیں


آئس کریم گرم ہو تو بری لگتی ہے اور اسی طرح سوپ اگر ٹھنڈا ملے تو اس کو پینے کا دل نہین چاہتا ہے- اسی طرح ہر کھانے کا اپنا ایک مزہ ہوتا ہے کچھ کھانے گرم گرم ہی اچھے لگتے ہیں مگر کچھ چیزیں اگر گرم ہوں تو ان کا مزہ ختم ہو جاتا ہے

گرم اور ٹھنڈا کھانے کے صحت پر اثرات

ماہرین کی جدید ترین تحقیق کے مطابق ٹھنڈا اور گرم کھانا انسان کی صحت پر مختلف اثرات مرتب کرتا ہے یہ اثرات انسان کو بعض اوقات صحت کے مسائل کا بھی شکار کر       سکتا ہے جن کے بارے میں ہم آپ کو آج بتائيں گے            -۔

                ٹھنڈا کھانا گرم کھانے سے زيادہ موٹا کرتا ہے۔

ماہرین کی جدید ترین تحقیق کے مطابق ٹھنڈا کھانا گرم کھانے کے مقابلے میں زيادہ کیلوریز کا حامل ہوتا ہے- اکثر لوگوں کا یہ ماننا ہوتا ہے کہ گرم کھانا کھانے سے پیٹ اچھی طرح بھرتا ہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور ٹھنڈے کھانے کے اندر زيادہ کیلوریز اور چکنائی موجود ہوتی ہے جو انسان کے اندر موٹاپے کا سبب بن سکتی ہے- عام طور پر جو افراد موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں ان میں سے زيادہ تر ایسی اشیا کھانا پسند کرتے ہیں جو کہ ٹھنڈی ہوتی ہیں اور ان کی یہی عادت ان میں موٹاپے کا باعث بن سکتی ہے

ٹھنڈا کھانا دیر سے ہضم ہوتا ہے
عام طور پر جو افراد کھانے میں ٹھنڈی چیزیں کھانا پسند کرتے ہیں ان افراد میں ہاضمے کے مسائل کا سامنا اکثر کرنا پڑتا ہے- ماہرین کے مطابق ایک پیالہ گرم سوپ ہضم ہونے میں 15 منٹ کا وقت لیتا ہے اس کے مقابلے میں کھانے کی ٹھنڈی اشیا جیسے آئس کریم وغیرہ آدھے گھنٹے میں ہضم ہوتی ہیں- اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ انسانی جسم ایک خاص درجہ حرارت پر اپنے افعال اچھے طریقے سے انجام دیتا ہے جب کہ اس سے کم درجہ حرارت پر اس کے کام کرنے کی استعداد متاثر ہوتی ہے اور ہاضمے کا عمل سست روی کا شکار ہو جاتا ہے-
 
ٹھنڈے کھانے میں جراثیم کا خطرہ ہوتا ہے

جب کھانا پکایا جاتا ہے تو اس سے اس میں موجود خطرناک جراثيم مر جاتے ہیں اور اس کھانے کو صحت کے لیے مفید بنا دیتے ہیں- لیکن کھانے کے ٹھنڈے ہونے کی صورت میں اس میں جراثیم کی موجودگی کے خطرات مین اضافہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ٹھنڈا کھانے والوں کے بیمار ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے-ایسے افراد بد ہضمی اور متلی وغیرہ کا آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں اس وجہ سے بھوک کی حالت میں ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ٹھنڈا کھانے کے بجاۓ گرم کھانا    
                                                                     کھائيں
                               ٹھنڈے کھانے کی لذت کم ہوتی ہے

معتدل اور گرم کھانا لذت کےاعتبار سے اس حوالے سے بہتر ہوتا ہے کہ اس میں تمام اجزا اچھی طرح گھل جاتے ہیں جو اس کی لذت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں- اس وجہ سے ایسے کھانے کھانا ایک جانب تو غذائيت کے اعتبار سے بہتر ہوتے ہیں اور دوسری جانب ان کو کھانے سے لذت بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے-                                                     ۔       

Friday, December 24, 2021

ایسی سلاد جو وزن گھٹائے۔۔۔وزن کم کرنے والے افراد کے لئے اچھی خبر

 


مغل دور سے ہی دسترخوان کو سلاد کے بغیر ایسا مانا جات

 تھا جیسے سالن بغیر روٹی یا بریانی بغیر بوٹی۔۔۔سلاد کی اہمیت کو سمجھنے والے اس کے قدر دان ہیں اور اسی میں کوئی نا کوئی نیا پن تلاش کرکے اسے مغلئی اور خاص بنا دیتے ہیں۔۔۔ ایسی کئی سلاد ہیں جو کھانے کے بعد آپ اپنا وزن کئی کلو کم کر سکتے ہیں۔۔۔سلاد ایک ایسی غذا ہے جو پیٹ بھی بھر دیتی ہے اور اسے کھانا آپ کو برا بھی نہیں لگتا۔۔۔۔

رنگین سلاد


ہر طرح کی سبزی کو سلاد کا حصہ بنانا ضروری ہے۔۔۔جن میں لال، ہری اور پیلی شملہ مرچیں۔۔۔گوبھی، چقندر شامل ہیں۔۔۔اس میں اگر تخم بالنگا بھگو کر شامل کرلیا جائے تو وائٹامنز ملنے علاوہ کے علاوہ وزن بھی کم ہوگا۔۔۔سلاد کی ڈریسنگ میں چٹنیاں شامل نا کریں بلکہ لیموں، کالا نمک اور کالی مرچ کو ہی شامل رکھیں۔۔۔ اس سلاد کو کھانے والے افراد نے ایک مہینہ میں سات سے آٹھ کلو وزن کم کیا ہے کیونکہ جسم میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں جاتی جو چربی بنائے۔۔۔

میوہ جات کی سلاد


سبزیوں کی سلاد میں اگر بادام، کاجو، اخروٹ اور کشمکش ایک مناسب مقدار میں شامل کرکے کھائی جائے جو توانائی کے علاوہ جسم کو اچھا فیٹ ملتا ہے اور وہ وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔۔



پالک اور گوبھی کی سلاد

پالک کے چھوٹے پتے، باریک کٹی پتہ گوبھی، باریک کٹی لال پتہ گوبھی، اخروٹ کٹے ہوئے، گاجریں باریک کٹی ہوئی ، دو چمچہ لیموں کا رس ، لہسن باریک کٹا ہوا، آدھا چمچہ پسی کالی مرچ، گلابی نمک۔۔۔ اس سلاد کی مکمل کیلوریز نوے ہیں ۔۔۔اور یہ تین سے چار دفعہ کی خوراک ہے۔۔۔اس کو روزانہ کھانے سے جسم کو مناسب مقدار میں وائٹامنز ملتے ہیں اور وزن تیزی سے کم ہوتا ہے۔۔۔بہت سارے شوبز کے ستارے اس سلاد کو کھاتے ہیں جن میں کترینہ کیف اور شلپا شیٹھی شامل ہیں۔۔۔


پکی ہوئی دالوں کی سلاد

مونگ دال، چنا دال، ارہر کی دال ابلی ہوئی ساری،اس میں ٹماٹر کٹے ہوئے، ہرا دھنیا کٹا ہوا، ہری مرچیں، میتھی کے پتے باریک کٹے ہوئے اور ایک بار گرم پانی سے نکالے ہوئے، ایک چٹکی ہینگ۔۔۔یہ سب ایک چمچہ زیتون کے تیل میں بھون لیں اور اس میں نمک ڈال دیں۔۔۔وزن کم کرنے کے لئے یہ سب سے بہترین سلاد ہے جو چمچہ سے کھائیں گے اور ایسا لگے گا کہ باقاعدہ پورا کھانا کھا رہے ہیں۔۔۔



Thursday, December 23, 2021

پی سی او خواتین کی صحت کا سب سے بڑا دشمن ! جانیئے اس کی چند علامات اور اس سے نمٹنے کے چند موثر گھریلو ٹوٹکے

 پی سی او ایس ایک ایسا جینیاتی، ہارمون، میٹابولک اور خواتین کےحمل کے نظام پر منفی اثرات مرتب کرنے والا مرض ہے جس میں کئی لڑکیاں اور خواتین مبتلا ہو جاتی ہیں، یہ اینڈروجن یا مرد ہارمون کی بلند سطح ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

یہ مرض جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے ہوتا ہے، آج بہت سی خواتین اس مرض میں مبتلا ہیں جو صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہیں جن میں بانجھ پن بھی شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق ہر 10 سے میں قریب 3 سے 4 خواتین اس مرض کا شکار ہوتی ہیں، اس لئے آج کے دور میں خواتین اور بچیوں کو اس مرض کے حوالے سے آگاہی اور اس سے بچنے کے طریقے بتانا بے حد ضروری ہے۔

اس سے بچنے کے کون کون سے طریقے ہیں جن کو اپنا کر آپ خود کو اس سنگین بیماری سے دور رکھ سکتی ہیں یہ آج ہم آپ کو بتائیں گے۔



روزانہ کی بنیاد پر ورزش

خواتین کا بڑھتا ہوا وزن انہیں پی سی او ایس میں مبتلا کرنے کی اہم وجہ بن سکتا ہے، اور اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ روزانہ ورزش کریں کیونکہ ورزش خود کو چاقوچوبند رکھنے اور وزن کو گھٹانے کا سب سے آسان طریقہ ہے اس کے لئے روزانہ 30 منٹ چہل قدمی کریں اور اپ جِم نہیں جانا چاہتی تو گھر میں ہی ورزش کریں، روزانہ کی بنیاد پر ورزش کرنے سے آپ پی سی او ایس سے بچ سکتی ہیں۔

متوازن غذا کا استعمال

خواتین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے غذا کا انتخاب کریں اور ایک متوازن غذا لینے کی عادت اپنائیں، اپنی روزانہ کی خوراک سے چینی اور تلی ہوئی چیزوں کو دور کر دیں جنک فود ہر گِز نہ کھائیں اور فائبر سے بھرپور غذاؤں کا استعمال کریں ساتھ ہی وٹامنز اور کیلشیم کے سپلمنٹس کا استعمال جاری رکھیںہ

تناؤ سے بچیں 

 ایک اہم وجہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ بڑھتے ہوئے ذہنی تناؤ کے باعث خواتین پی سی او ایس جیسی خطرناک بیماری کا شکار ہو جاتی ہیں اور انہیں بال جھڑنے چہرے پر دانے، جلد کی مسائل اور حمل میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سے بچنے کے لئے کوشش کریں کہ چہل قدمی کریں کھلی ہوا میں سانس لیں خود کو ان کاموں میں مصروف رکھیں جن سے آپ کو سکون ملے اور ذہنی دباؤ سے بچ سکیں

جڑی بوٹیوں اور ہری سبزیوں کا استعمال

ایسی بہت سی سبزیاں اور جڑی بوٹیاں ہیں جو آپ کو پی سی او ایس کا شکار ہونے سے بچا سکتی ہیں، کوشش کریں کہ روزانہ میتھی کے پتوں کا استعمال کریں ساتھ ہی تلسی کے پتے بھی کھا لیا کریں اس سے جسم میں انسولین نہیں بڑھے گا اور یہ آپ کو پی سی او ایس کا شکار ہونے سے بچائیں گے، اس کے علاوہ نیم گرم پانی میں شہد اور لیموں ڈال کر پینے سے بھی پی سی او ایس کا مسئلہ دور ہو جاتا ہے۔

کیا آپ مرغی کے پنجوں میں پوشیدہ صحت کے یہ ناقابل یقین راز جانتے ہیں؟

 


اکثر لوگوں کے سامنے جب مرغی کے پنجوں کا ذکر کیا جائے تو ان کا رد عمل بہت مثبت نہیں ہوتا اکثر لوگوں اس شش پنج میں بھی ہوتے ہیں کہ کیا یہ حلال ہیں بھی یا نہیں- تو اس حوالے سے اس معاملے میں تمام مکاتب فکر کے علما متفق ہیں کہ مرغی کے پنجے حلال ہوتے ہیں اور ان سے بنے ہوۓ پکوان کھانے میں قطعی کوئی مضائقہ نہیں ہے بلکہ مرغی کے پنجوں سے بنے ہوئے پکوان نہ صرف انسانی صحت کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں بلکہ بہت فائدوں کے حامل ہوتے ہیں-

مرغی کے پنجوں کی خاصیت

مرغی کے پنجے کئی حوالوں سے بہت اہم خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں ان کی سب سے پہلی خاصیت یہ ہے کہ یہ کافی خوش ذائقہ ہوتے ہیں اور ان کا بھی سالن مرغی اور بکرے کے پائے کی طرح پکایا جا سکتا ہے- اس کے علاوہ اس کی یخنی بھی بنائی جا سکتی ہے یہ کافی کم قیمت ہوتے ہیں اس لیے اس کو متوسط طبقے کے لوگ بھی آسانی سے استعمال کر سکتے ہیں- اس کے علاوہ اس کے اندر ایک خاص کیمیائی مادہ کیلگن موجود ہوتا ہے جو کہ بہت ہی مہنگے میک اپ کے سامان کے اندر استعمال کیا جاتا ہے- کیلیگن کی موجودگی کے سبب مرغی کے پنجے جلد کے لیے بہت فائدہ مند ہوتے ہیں یہ ایک خاص قسم کی پروٹین ہوتی ہے جو کہ پورے جسم کو ایک ساتھ باندھ کر رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے-

کیلیگن کے فوائد

کیلیگن کے اندر بہت ساری خصوصیات موجود ہوتی ہیں جو کہ انسانی جسم کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں

1: جلد کو چمکدار اور سفید بناتا ہے-

2: کیلشیم اور پروٹین کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے جب کہ کاربوہائیڈریٹ کی غیر موجودگی کے سبب وزن کم کرنے والے افراد کے لیے بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے-

3: خون کی نالیوں کو طاقت فراہم کر کے دوران خون کو بہتر بناتا ہے-

4: جوڑوں کے درد سے افاقہ پہنجاتا ہے-

5: مرغی کے پنجے جوڑوں کے درد کی مہنگی ادویات اور میک اپ کے مہنگے سامان کا سب سے بنیادی جز ہے اس وجہ سے ان کا استعمال غریبوں کو کم قیمت میں بڑے فائدے مہیا کر سکتے ہیں-


بہت عرصہ تک کاجل لگائیں تو آنکھوں کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔۔۔کاجل کے نقصانات جو ہم نہیں جانتے

بہت عرصہ تک کاجل لگائیں تو آنکھوں کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔۔۔کاجل کے نقصانات جو ہم نہیں جانتے زمانہ قدیم سے میک اپ اور خوبصورتی کو بڑھانے ک...