Monday, December 27, 2021

بہت عرصہ تک کاجل لگائیں تو آنکھوں کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔۔۔کاجل کے نقصانات جو ہم نہیں جانتے

بہت عرصہ تک کاجل لگائیں تو آنکھوں کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔۔۔کاجل کے نقصانات جو ہم نہیں جانتے



زمانہ قدیم سے میک اپ اور خوبصورتی کو بڑھانے کے لئے کاجل کا استعمال دیکھا گیا ہے۔۔۔ یہ کاجل اور سرمہ نظر بٹو کے طور پر بھی لگایا جاتا ہے اور کچھ کہتے ہیں کہ بچے کی آنکھوں میں لگایا جائے تو آنکھیں بڑی ہوجاتی ہیں۔۔۔نوے فیصد مائیں گھر کے بڑوں کے کہنے پر ہی بچے کو کاجل لگاتی ہیں۔                                                                           ۔۔
 
شادیوں میں تو باقاعدہ دلہا کی بھابھیاں اس کی سرمہ لگائی بھی کرتی ہیں۔۔۔۔کچھ لڑکیوں کا تو سنگھار ہی کاجل کے بغیر ادھورا ہے۔۔۔ لیکن کیا یہ کاجل اور سرمہ ہماری آنکھوں کے لئے محفوظ ہے۔۔۔اس کا جواب ہے کہ بہت زیادہ استعمال ہماری آنکھوں کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔۔۔
 
کاجل میں ایک بہت بڑی مقدار لیڈ کی موجود ہوتی ہے جو اگر آنکھوں میں بہت زیادہ جمع ہوجائے تو مختلف آنکھوں کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں                                         ۔۔۔



کچھ لوگوں کو یہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کو یا بچے کو کاجل سے الرجی بھی ہو سکتی ہے۔۔۔ وہ اس کا استعمال بند نہیں کرتے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ چھوٹے بچے جن کی عمر چھے ماہ سے کم ہوتی ہے اور ان کی آنکھوں کا پانی اور آنسو بن رہے ہوتے ہیں وہ کاجل کی سختی کو بہت مشکل سے برداشت کر پاتے ہیں۔                                                     ۔۔
 
کاجل لگانے والے بہت سارے لوگوں کا جب سروے کیا گیا تو تحقیق سے ثابت ہوا کہ کاجل لگانے والے بچے یا بڑے آنکھوں میں جلن کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان کی آنکھوں عموماً خشک ہوتی ہیں اورمختلف چھوٹے بڑے بوائل بھی بن جاتے ہیں آنکھوں میں                                                              ۔۔۔
 
آنکھ کے پپوٹوں پر گلینڈز بھی بن سکتے ہیں کاجل کے زیادہ استعمال سے                                                               ۔۔



بہت چھوٹی عمر میں جب بچے کی آنکھ میں کاجل ڈالتے ہیں تو اسے کئی طرح کے انفیکشنز بھی ہوسکتے ہیں۔۔۔چھوٹے بچے کے لئے والدین اس کا استعمال کم سے کم کریں کیونکہ یہ ان کی آنکھوں کو آگے کے لئے مزید نقصان پہنچا سکتا ہے اور بینائی کے مسائل کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔۔۔کاجل لگائیں ضرور لیکن بہترین کمپنی کا اور بہت احتیاط کے ساتھ۔۔۔

Saturday, December 25, 2021

اگر آپ کے ہاتھ پاؤں بار بار سن ہو رہے ہیں تو اس کیفیت کو معمولی نہ سمجھیں یہ ان خطرناک بیماریوں. کی نشانی ہوسکتی ہے

 

اگر آپ کے ہاتھ پاؤں بار بار سن ہو رہے ہیں تو اس کیفیت کو معمولی نہ سمجھیں یہ ان خطرناک بیماریوں. کی نشانی ہوسکتی ہے


کسی بھی ایک پوزیشن پر کافی دیر تک ہاتھ یا پاؤں رکھنے کے سبب وہ سن ہو جاتے ہیں اور ان کو حرکت دینے پر نہ صرف سنسناہٹ محسوس ہوتی ہے بلکہ حرکت دینے پر تکلیف بھی محسوس ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جاتی ہے- کبھی کبھار ہونے والی یہ کیفیت کسی نہ کسی نس کے دب جانےکے سبب ہوتی ہے جو کہ خطرے کی بات نہیں ہے- لیکن اگر یہی کیفیت بار بار ہو تو یہ علامت کچھ بڑی بیماریوں کا بھی سبب ہو سکتی ہے جن کے بارے میں ہم آپ کو آج بتائيں گے-
 
                                                                 ۔1: ذیابطیس
ذیابطیس یا شوگر کی بیماری میں خون میں شوگر کی مقدار میں اضافے کا براہ راست اثر اعصاب پر پڑتا ہے جس کے سبب ان میں کمزوری واقع ہو جاتی ہے جس کی وہ سے ہاتھ اور پیر سن ہو جاتے ہیں اور ان میں چبھن اور سنسناہٹ محسوس ہوتی ہے- اس وجہ سے اگر بار بار ہاتھ پاؤں سن ہوں تو اس صورت میں فوری طور پر شوگر چیک کروا لینی چاہیے-
 
                              ۔2: دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے مرض
بعض اوقات دماغ یا ریڑھ کی ہڈی کے کچھ حصے سخت ہو کر یا پھر ان میں کسی قسم کی رسولی بن جاتی ہے جس کو ملٹی پل اسکلیرسس بھی کہا جاتا ہے- اس بیماری میں ہاتھ اور پیر بیٹھے بٹھائے سن ہو جاتے ہیں- یہ ایک لاعلاج بیماری ہے جس کو مختلف قسم کی ورزشوں اور فزیو تھراپی سے بہتر بنا سکتے ہیں-

:                                                                          3=فالج
اگر بیٹھے بٹھائے ہاتھوں پیروں میں کمزوری محسوس ہو اور سر میں درد کے ساتھ ساتھ بولنے میں دشواری ہو رہی ہو تو اس کا مطلب ہے کہ کسی وجوہ کی بنا پر دماغ کو خون کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے اور یہ فالج کی بیماری کی ابتدائی علامات بھی ہو سکتی ہیں- اس لیے ایسی حالت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے-
 
                                                       ۔4: وٹامن کی کمی
وٹامن بی اور وٹامن بی 12 کی کمی کے سبب عام طور پر تھکن ، سانس لینے میں دشواری کے ساتھ ساتھ ہاتھ پاؤں کا ٹھنڈا پڑ جانا اور سن ہو جانے کی علامتیں بھی شامل ہیں اس صورت میں ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق وٹامن بی کا       سپلیمنٹ کا استعمال مفید ثابت ہو سکتا ہے-

: گردوں کا ناکارہ ہونا                                               ۔5
انسانی جسم میں گردے بہت اہم کردارادا کرتے ہیں اور ان کے ذمے سارے جسم کے فاضل مادوں کا اخراج شامل ہوتا ہے- اگر گردے اپنا یہ فعل مناسب انداز میں ادا نہ کر سکیں تو یہ زہریلے مادے جسم میں جمع ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہاتھ پاؤں بار بار سن ہونا شروع کر دیتے ہیں- اس وجہ سے اگر ہاتھ پاؤں سن ہونے کے ساتھ ساتھ جسم میں سوجن بھی ہو اور متلی کی تکلیف کا بھی سامنا ہو تو اس صورت میں گردوں کا ٹیسٹ ضرور کروا لینا چاہیے

ٹوٹتے بالوں کے لئے زندگی کا پیغام ہے یہ شیمپو۔۔۔اب طرح طرح کے شیمپو گھر میں بنائیں

 

ٹوٹتے بالوں کے لئے زندگی کا پیغام ہے یہ شیمپو۔۔۔اب طرح طرح کے شیمپو گھر میں بنائیں...


بال مرد و عورت دونوں کے لئے خوبصورتی اور اعتماد کی ایک پہچان ہیں۔۔۔ان بالوں کی حفاظت کا ایک اہم حصہ ہیں شیمپو جس کی وجہ سے نا صرف بال محفوظ رہتے ہیں بلکہ صاف بھی رہتے ہیں۔۔بازار میں موجود شیمپو بالوں کی ساخت کو کمزور کر دیتے ہیں ۔۔۔اس لئے گھر میں بھی بہترین .شیمپو بنائے جا سکتے ہیں                                              ۔     
 
                                        بالوں کو گھنا کرنے والا شیمپو

اس شیمپو کو بنانے کے لئے آپ دس گرام لکس یا کیپری کا صابن لے لیں، یا پھر کوئی ایسا صابن لیں جس میں خوشبو نا ہو۔۔۔اب اس میں دو چمچے گھیگھوار کا جوس ملائیں، ایک چائے کا چمچہ شہد، گلاب کا تیل تھوڑا سا، لیموں کا عرق اور لیسیتھیں ڈال کر مکس کرلیں۔۔۔یہ شیمپو آپ روزانہ استعمال کر سکتے ہیں اور وہ بال جو مسلسل ٹوٹ رہے ہوں اور گر رہے ہوں ان کے لئے تو یہ ایک خاص تحفہ ہے           

                                          خشکی ختم کرنے والا شیمپو
اکثر سر میں خشکی کے لئے بازار میں طرح طرح کے شیمپو ملتے ہیں لیکن نا تو اس میں کوئی اثر ہوتا ہے اور نا ہی وہ بالوں کے لئے مناسب ہوتے ہیں۔۔۔گھر میں ایک ایسا شیمپو بنائیں جو آپ کے بالوں کی حفاظت بھی کرے اور خشکی کو جڑ سے ختم بھی کرے۔۔۔ایک سو پندرہ ملی لیٹر پانی کو الگ کرلیں۔۔۔اب اس میں دو انڈوں کی زردیاں مکس کرکے پھینٹیں۔۔۔اس آمیزہ سے ہی اپنا سر دھوئیں اور سر کو صاف کرنے کے لئے دو سو پچیس ملی لیٹر پانی میں دو چائے کے چمچے سرکہ ملا کر پھر سر کو باقاعدہ دھو لیں۔۔۔ خشکی دنوں میں غائب ہوجائے گی                                         ۔ 


                                      بالوں میں چمک لانے والا شیمپو۔۔
بالوں کو مسلسل باہر کے شیمپو سے دھونے سے بال روکھے ، پھیکے اور بے رونق ہوجاتے ہیں۔۔۔چاہے شیمپو کتنا ہی قیمتی کیوں نا ہو بال آہستہ آہستہ اپنی خوبصورتی کو کھو دیتے ہیں۔۔۔ اگر آپ گھر میں ا یک شیمپو بنا کر استعمال کریں گے تو بال نا صرف گھنے ہوں گے بلکہ چمکدار بھی ہوجائیں گے۔۔۔اس کے لئے دو سو گرام ریٹھا، سو گرام سیکا کائی، سو گرام آملہ اور چند میتھی دانے ملا کر پیس لیں اور اسے شیمپو کی طرح استعمال کریں۔۔۔عادت بننے میں وقت لگے گا لیکن نتائج دیکھ کر آپ اسے چھوڑ نہیں پائیں گی۔

اگر آپ بھی ٹھنڈا کھانا کھاتے ہیں تو محتاط ہوجائیں آپ کی یہ عادت آپ کو صحت کے کن مسائل کا شکار کرسکتی ہے جانیں

اگر آپ بھی ٹھنڈا کھانا کھاتے ہیں تو محتاط ہوجائیں آپ کی یہ عادت آپ کو صحت کے کن مسائل کا شکار کرسکتی ہے جانیں


آئس کریم گرم ہو تو بری لگتی ہے اور اسی طرح سوپ اگر ٹھنڈا ملے تو اس کو پینے کا دل نہین چاہتا ہے- اسی طرح ہر کھانے کا اپنا ایک مزہ ہوتا ہے کچھ کھانے گرم گرم ہی اچھے لگتے ہیں مگر کچھ چیزیں اگر گرم ہوں تو ان کا مزہ ختم ہو جاتا ہے

گرم اور ٹھنڈا کھانے کے صحت پر اثرات

ماہرین کی جدید ترین تحقیق کے مطابق ٹھنڈا اور گرم کھانا انسان کی صحت پر مختلف اثرات مرتب کرتا ہے یہ اثرات انسان کو بعض اوقات صحت کے مسائل کا بھی شکار کر       سکتا ہے جن کے بارے میں ہم آپ کو آج بتائيں گے            -۔

                ٹھنڈا کھانا گرم کھانے سے زيادہ موٹا کرتا ہے۔

ماہرین کی جدید ترین تحقیق کے مطابق ٹھنڈا کھانا گرم کھانے کے مقابلے میں زيادہ کیلوریز کا حامل ہوتا ہے- اکثر لوگوں کا یہ ماننا ہوتا ہے کہ گرم کھانا کھانے سے پیٹ اچھی طرح بھرتا ہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور ٹھنڈے کھانے کے اندر زيادہ کیلوریز اور چکنائی موجود ہوتی ہے جو انسان کے اندر موٹاپے کا سبب بن سکتی ہے- عام طور پر جو افراد موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں ان میں سے زيادہ تر ایسی اشیا کھانا پسند کرتے ہیں جو کہ ٹھنڈی ہوتی ہیں اور ان کی یہی عادت ان میں موٹاپے کا باعث بن سکتی ہے

ٹھنڈا کھانا دیر سے ہضم ہوتا ہے
عام طور پر جو افراد کھانے میں ٹھنڈی چیزیں کھانا پسند کرتے ہیں ان افراد میں ہاضمے کے مسائل کا سامنا اکثر کرنا پڑتا ہے- ماہرین کے مطابق ایک پیالہ گرم سوپ ہضم ہونے میں 15 منٹ کا وقت لیتا ہے اس کے مقابلے میں کھانے کی ٹھنڈی اشیا جیسے آئس کریم وغیرہ آدھے گھنٹے میں ہضم ہوتی ہیں- اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ انسانی جسم ایک خاص درجہ حرارت پر اپنے افعال اچھے طریقے سے انجام دیتا ہے جب کہ اس سے کم درجہ حرارت پر اس کے کام کرنے کی استعداد متاثر ہوتی ہے اور ہاضمے کا عمل سست روی کا شکار ہو جاتا ہے-
 
ٹھنڈے کھانے میں جراثیم کا خطرہ ہوتا ہے

جب کھانا پکایا جاتا ہے تو اس سے اس میں موجود خطرناک جراثيم مر جاتے ہیں اور اس کھانے کو صحت کے لیے مفید بنا دیتے ہیں- لیکن کھانے کے ٹھنڈے ہونے کی صورت میں اس میں جراثیم کی موجودگی کے خطرات مین اضافہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ٹھنڈا کھانے والوں کے بیمار ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے-ایسے افراد بد ہضمی اور متلی وغیرہ کا آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں اس وجہ سے بھوک کی حالت میں ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ٹھنڈا کھانے کے بجاۓ گرم کھانا    
                                                                     کھائيں
                               ٹھنڈے کھانے کی لذت کم ہوتی ہے

معتدل اور گرم کھانا لذت کےاعتبار سے اس حوالے سے بہتر ہوتا ہے کہ اس میں تمام اجزا اچھی طرح گھل جاتے ہیں جو اس کی لذت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں- اس وجہ سے ایسے کھانے کھانا ایک جانب تو غذائيت کے اعتبار سے بہتر ہوتے ہیں اور دوسری جانب ان کو کھانے سے لذت بھی زیادہ محسوس ہوتی ہے-                                                     ۔       

Friday, December 24, 2021

ایسی سلاد جو وزن گھٹائے۔۔۔وزن کم کرنے والے افراد کے لئے اچھی خبر

 


مغل دور سے ہی دسترخوان کو سلاد کے بغیر ایسا مانا جات

 تھا جیسے سالن بغیر روٹی یا بریانی بغیر بوٹی۔۔۔سلاد کی اہمیت کو سمجھنے والے اس کے قدر دان ہیں اور اسی میں کوئی نا کوئی نیا پن تلاش کرکے اسے مغلئی اور خاص بنا دیتے ہیں۔۔۔ ایسی کئی سلاد ہیں جو کھانے کے بعد آپ اپنا وزن کئی کلو کم کر سکتے ہیں۔۔۔سلاد ایک ایسی غذا ہے جو پیٹ بھی بھر دیتی ہے اور اسے کھانا آپ کو برا بھی نہیں لگتا۔۔۔۔

رنگین سلاد


ہر طرح کی سبزی کو سلاد کا حصہ بنانا ضروری ہے۔۔۔جن میں لال، ہری اور پیلی شملہ مرچیں۔۔۔گوبھی، چقندر شامل ہیں۔۔۔اس میں اگر تخم بالنگا بھگو کر شامل کرلیا جائے تو وائٹامنز ملنے علاوہ کے علاوہ وزن بھی کم ہوگا۔۔۔سلاد کی ڈریسنگ میں چٹنیاں شامل نا کریں بلکہ لیموں، کالا نمک اور کالی مرچ کو ہی شامل رکھیں۔۔۔ اس سلاد کو کھانے والے افراد نے ایک مہینہ میں سات سے آٹھ کلو وزن کم کیا ہے کیونکہ جسم میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں جاتی جو چربی بنائے۔۔۔

میوہ جات کی سلاد


سبزیوں کی سلاد میں اگر بادام، کاجو، اخروٹ اور کشمکش ایک مناسب مقدار میں شامل کرکے کھائی جائے جو توانائی کے علاوہ جسم کو اچھا فیٹ ملتا ہے اور وہ وزن کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔۔



پالک اور گوبھی کی سلاد

پالک کے چھوٹے پتے، باریک کٹی پتہ گوبھی، باریک کٹی لال پتہ گوبھی، اخروٹ کٹے ہوئے، گاجریں باریک کٹی ہوئی ، دو چمچہ لیموں کا رس ، لہسن باریک کٹا ہوا، آدھا چمچہ پسی کالی مرچ، گلابی نمک۔۔۔ اس سلاد کی مکمل کیلوریز نوے ہیں ۔۔۔اور یہ تین سے چار دفعہ کی خوراک ہے۔۔۔اس کو روزانہ کھانے سے جسم کو مناسب مقدار میں وائٹامنز ملتے ہیں اور وزن تیزی سے کم ہوتا ہے۔۔۔بہت سارے شوبز کے ستارے اس سلاد کو کھاتے ہیں جن میں کترینہ کیف اور شلپا شیٹھی شامل ہیں۔۔۔


پکی ہوئی دالوں کی سلاد

مونگ دال، چنا دال، ارہر کی دال ابلی ہوئی ساری،اس میں ٹماٹر کٹے ہوئے، ہرا دھنیا کٹا ہوا، ہری مرچیں، میتھی کے پتے باریک کٹے ہوئے اور ایک بار گرم پانی سے نکالے ہوئے، ایک چٹکی ہینگ۔۔۔یہ سب ایک چمچہ زیتون کے تیل میں بھون لیں اور اس میں نمک ڈال دیں۔۔۔وزن کم کرنے کے لئے یہ سب سے بہترین سلاد ہے جو چمچہ سے کھائیں گے اور ایسا لگے گا کہ باقاعدہ پورا کھانا کھا رہے ہیں۔۔۔



Thursday, December 23, 2021

پی سی او خواتین کی صحت کا سب سے بڑا دشمن ! جانیئے اس کی چند علامات اور اس سے نمٹنے کے چند موثر گھریلو ٹوٹکے

 پی سی او ایس ایک ایسا جینیاتی، ہارمون، میٹابولک اور خواتین کےحمل کے نظام پر منفی اثرات مرتب کرنے والا مرض ہے جس میں کئی لڑکیاں اور خواتین مبتلا ہو جاتی ہیں، یہ اینڈروجن یا مرد ہارمون کی بلند سطح ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

یہ مرض جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے ہوتا ہے، آج بہت سی خواتین اس مرض میں مبتلا ہیں جو صحت کے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہیں جن میں بانجھ پن بھی شامل ہے۔

ماہرین کے مطابق ہر 10 سے میں قریب 3 سے 4 خواتین اس مرض کا شکار ہوتی ہیں، اس لئے آج کے دور میں خواتین اور بچیوں کو اس مرض کے حوالے سے آگاہی اور اس سے بچنے کے طریقے بتانا بے حد ضروری ہے۔

اس سے بچنے کے کون کون سے طریقے ہیں جن کو اپنا کر آپ خود کو اس سنگین بیماری سے دور رکھ سکتی ہیں یہ آج ہم آپ کو بتائیں گے۔



روزانہ کی بنیاد پر ورزش

خواتین کا بڑھتا ہوا وزن انہیں پی سی او ایس میں مبتلا کرنے کی اہم وجہ بن سکتا ہے، اور اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ روزانہ ورزش کریں کیونکہ ورزش خود کو چاقوچوبند رکھنے اور وزن کو گھٹانے کا سب سے آسان طریقہ ہے اس کے لئے روزانہ 30 منٹ چہل قدمی کریں اور اپ جِم نہیں جانا چاہتی تو گھر میں ہی ورزش کریں، روزانہ کی بنیاد پر ورزش کرنے سے آپ پی سی او ایس سے بچ سکتی ہیں۔

متوازن غذا کا استعمال

خواتین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے غذا کا انتخاب کریں اور ایک متوازن غذا لینے کی عادت اپنائیں، اپنی روزانہ کی خوراک سے چینی اور تلی ہوئی چیزوں کو دور کر دیں جنک فود ہر گِز نہ کھائیں اور فائبر سے بھرپور غذاؤں کا استعمال کریں ساتھ ہی وٹامنز اور کیلشیم کے سپلمنٹس کا استعمال جاری رکھیںہ

تناؤ سے بچیں 

 ایک اہم وجہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ بڑھتے ہوئے ذہنی تناؤ کے باعث خواتین پی سی او ایس جیسی خطرناک بیماری کا شکار ہو جاتی ہیں اور انہیں بال جھڑنے چہرے پر دانے، جلد کی مسائل اور حمل میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس سے بچنے کے لئے کوشش کریں کہ چہل قدمی کریں کھلی ہوا میں سانس لیں خود کو ان کاموں میں مصروف رکھیں جن سے آپ کو سکون ملے اور ذہنی دباؤ سے بچ سکیں

جڑی بوٹیوں اور ہری سبزیوں کا استعمال

ایسی بہت سی سبزیاں اور جڑی بوٹیاں ہیں جو آپ کو پی سی او ایس کا شکار ہونے سے بچا سکتی ہیں، کوشش کریں کہ روزانہ میتھی کے پتوں کا استعمال کریں ساتھ ہی تلسی کے پتے بھی کھا لیا کریں اس سے جسم میں انسولین نہیں بڑھے گا اور یہ آپ کو پی سی او ایس کا شکار ہونے سے بچائیں گے، اس کے علاوہ نیم گرم پانی میں شہد اور لیموں ڈال کر پینے سے بھی پی سی او ایس کا مسئلہ دور ہو جاتا ہے۔

کیا آپ مرغی کے پنجوں میں پوشیدہ صحت کے یہ ناقابل یقین راز جانتے ہیں؟

 


اکثر لوگوں کے سامنے جب مرغی کے پنجوں کا ذکر کیا جائے تو ان کا رد عمل بہت مثبت نہیں ہوتا اکثر لوگوں اس شش پنج میں بھی ہوتے ہیں کہ کیا یہ حلال ہیں بھی یا نہیں- تو اس حوالے سے اس معاملے میں تمام مکاتب فکر کے علما متفق ہیں کہ مرغی کے پنجے حلال ہوتے ہیں اور ان سے بنے ہوۓ پکوان کھانے میں قطعی کوئی مضائقہ نہیں ہے بلکہ مرغی کے پنجوں سے بنے ہوئے پکوان نہ صرف انسانی صحت کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں بلکہ بہت فائدوں کے حامل ہوتے ہیں-

مرغی کے پنجوں کی خاصیت

مرغی کے پنجے کئی حوالوں سے بہت اہم خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں ان کی سب سے پہلی خاصیت یہ ہے کہ یہ کافی خوش ذائقہ ہوتے ہیں اور ان کا بھی سالن مرغی اور بکرے کے پائے کی طرح پکایا جا سکتا ہے- اس کے علاوہ اس کی یخنی بھی بنائی جا سکتی ہے یہ کافی کم قیمت ہوتے ہیں اس لیے اس کو متوسط طبقے کے لوگ بھی آسانی سے استعمال کر سکتے ہیں- اس کے علاوہ اس کے اندر ایک خاص کیمیائی مادہ کیلگن موجود ہوتا ہے جو کہ بہت ہی مہنگے میک اپ کے سامان کے اندر استعمال کیا جاتا ہے- کیلیگن کی موجودگی کے سبب مرغی کے پنجے جلد کے لیے بہت فائدہ مند ہوتے ہیں یہ ایک خاص قسم کی پروٹین ہوتی ہے جو کہ پورے جسم کو ایک ساتھ باندھ کر رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے-

کیلیگن کے فوائد

کیلیگن کے اندر بہت ساری خصوصیات موجود ہوتی ہیں جو کہ انسانی جسم کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں

1: جلد کو چمکدار اور سفید بناتا ہے-

2: کیلشیم اور پروٹین کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے جب کہ کاربوہائیڈریٹ کی غیر موجودگی کے سبب وزن کم کرنے والے افراد کے لیے بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے-

3: خون کی نالیوں کو طاقت فراہم کر کے دوران خون کو بہتر بناتا ہے-

4: جوڑوں کے درد سے افاقہ پہنجاتا ہے-

5: مرغی کے پنجے جوڑوں کے درد کی مہنگی ادویات اور میک اپ کے مہنگے سامان کا سب سے بنیادی جز ہے اس وجہ سے ان کا استعمال غریبوں کو کم قیمت میں بڑے فائدے مہیا کر سکتے ہیں-


وٹامن ای کا استعمال انسانی صحت کے لیے کیوں ضروری ہے اور یہ اداکار اس کا استعمال باقاعدگی سے کیوں کرتے ہیں؟

 آج کل کی تیز رفتار زندگی اور اس کے دباؤ کے سبب انسان کا جسم جلد تھکن ، ڈپریشن کا شکار ہونے لگا ہے مردوں کے اندر گنچ پن اور ڈھلکتا ہوا جسم وقت سے پہلے ہونے لگا ہے تو دوسری جانب عورتیں بھی وقت سے پہلے ہی سن یاس یا مینو پاز کا سامنا کر رہی ہیں- ان کی خوبصورتی وقت سے پہلے ختم ہو جاتی ہے جلد کی چمک دمک ماند پڑنے لگی ہے بال کمزور اور روکھے ہوجاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ مختلف نسوانی مسائل کا شکار ہو رہی ہیں- ان تمام مسائل کا بنیادی سبب اگر ایک جانب ہمارا غیر صحت مند طرز زںدگی ہے تو دوسرا اس کا سب سے بڑا سبب جسم میں وٹامن ای کی کمی ۔ہے



وٹامن ای کیا ہے اور اس کا استعمال

وٹامن ای ہماری غذا کا ایک اہم جز ہے یہ عام طور پر ہری سبزیوں ،سویابین آئل ، سورج مکھی کے تیل اور ہرے پتوں میں پائی جانے والی سبزیوں میں پایا جاتا ہے اس کا استعمال دو طریقوں سےکیا جاسکتا ہے-وٹامن ای کا آئل چہرے کی خوبصورتی اور عمر کے اثرات کو روکنے کے لیے لگایا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ خوبصورتی بڑھانے والی تمام کریموں کا یہ لازمی جز ہوتا ہے- اس کے علاوہ اس کو کھانے کے کیپسول کی صورت میں بھی استعمال کیا جاتا ہے جو کہ صحت کے کئی مسائل کا حل ہوتا ہے عام طور پر 400 ملی گرام کا ایک کیپسول دن بھر کے لیے کافی ہوتا ہے اور اس کو صبح ناشتے کے دس منٹ کے بعد لینا مفید ہوتا ہے-


وٹامن ای کے فوائد

1: عمر کے اثرات کم کرتا ہے

رات کے وقت سونے سے قبل چہرے کو صاف پانی سے دھونے کے بعد وٹامن ای والے تیل کے چند قطرے کسی بھی کریم میں شامل کر لیں اور اس کو نرمی سے چہرے پر لگا دیں- اس سے ایک جانب تو جلد کی چمک دمک میں اضافہ ہوتا ہے جب کہ دوسری جانب یہ چہرے کی جلد کو نم کر کے جھریوں کے بننے کے عمل کو روکتا ہے-

2: چہرے پر بننے والی چھائیوں کا خاتمہ کرتا ہے

جلد پرپگمنٹ کی زیادتی کے سبب عام طور پر چھائیاں پڑ جاتی ہیں جن کو دور کرنے کے لیے وٹامن ای کو وٹامن سی کے ساتھ ملا کر چہرے پر لگانے سے نہ صرف چہرے پر موجود داغ دھبوں کا خاتمہ ہوتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایکنی میں بھی کمی واقع ہوتی ہے-

3: قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے

وٹامن ای کے کیپسول کا استعمال انسانی جسم کو بیماریوں سے لڑنے کی طاقت دیتا ہے اور اس کی قوت مدافعت کو بڑھا دیتا ہے-

4: بالوں کی صحت کے لیے

خوبصورت اور گھنے بال مرد اور عورت دونوں کی شخصیت کے لیے ضروری ہوتے ہیں اس لیے اس کا استعمال بالوں کو مضبوطی فراہم کرتا ہے اور ان کو لمبا اور گھنا بناتا ہے- اس کے علاوہ یہ وقت سے پہلے بالوں کے سفید ہونے کے عمل کو بھی روکتا ہے-

5: دل کے دورے کے خطرات کو کم کرتا ہے

وٹامن ای دل کی شریانوں کو خصوصی طاقت فراہم کرتا ہے اور اسی سبب اس کا استعمال دل کے دورے کے خطرے کو کم کر دیتا ہے-

6: کینسر کے خطرات کو کم کرتا ہے

جو لوگ باقاعدگی سے اپنی جلد پر وٹامن ای کا استعمال کرتے ہیں ان کی جلد کو الٹراوائلٹ شعاعوں کا مقابلہ کرنے کی خصوصی طاقت مل جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کے اندر جلد کے کینسر کا خطرہ کم ہو جاتا ہے-

7: اسقاط حمل کے خطرے کو کم کرتا ہے

خواتین کے اندر ہارمون کے سبب ماہواری میں ہونے والی بے قاعدگی اور اسقاط حمل کے خطرے کو روکنے میں وٹامن ای اہم کردار ادا کرتا ہے یہ رحم کو مضبوطی فراہم کر کے اسقاط حمل کے خطرے کو روک دیتا ہے-

8: پٹھوں کو طاقت فراہم کرتا ہے

عام طور پر بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری ہو جاتی ہے جو جسم میں درد کا باعث بن سکتی ہے ایسی صورت میں وٹامن ای کا استعمال پٹھوں اور اعصابی نظام کو طاقت فراہم کرتا ہے اور دور کا خاتمہ کرتا ہے -

9: نظام انہضام کا مضبوط کرتا ہے

انسانی جسم میں نظام انہضام کی درستگی اسے کئی بڑی بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے وٹامن ای کا استعمال نظام انہضام کو درست رکھتا ہے-

10: جسم کو چاک و چوبند رکھتا ہے

تھوڑا سا چلنے کے بعد تھکن محسوس کرنے والے لوگ وٹامن ای کی کمی کا شکار بھی ہو سکتے ہیں ایسے افراد وٹامن ای کا استعمال کریں اس سے نہ صرف وہ چاک و چوبند رہ سکتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تھوڑا چلنے سے پیروں مین ہونے والے درد کا بھی خاتمہ ہوتا ہے-

سردی کے موسم کی کھانسی سے پریشان افراد مولی کو اس طرح استعمال کریں اور کھانسی سے نجات پائيں

 سردی کے موسم کی کھانسی سے پریشان افراد مولی کو اس طرح استعمال کریں اور کھانسی سے نجات پائيں



سردی کے موسم کی کھانسی سے پریشان افراد مولی کو اس طرح استعمال کریں اور کھانسی سے نجات پائيں

مولی ہمارے ملک میں سردی کے موسم میں آنے والی ایسی سبزی ہے جس کی جڑ کو کھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے- یہ ایک موسمی سبزی ہے جو کہ عام طور پر صرف اسی موسم میں آتی ہے مگر پہاڑی علاقوں میں یہ سارا سال بھی پائی جاتی ہے ۔ یہ فائدوں کے اعتبار سے اتنی خاص ہوتی ہے کہ اس کو مہنگے فائدوں والی سبزی کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے- یہ مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے مختلف انداز میں استعمال کی جاتی ہے- عام طور پر لوگ اس کو کچا ہی سلاد کے طور پر کھاتے ہیں اس صورت میں بھی یہ بہت مفید ہوتا ہے مگر آج ہم آپ کو اس کے کچھ ایسے خاص استعمال بتائيں گے جو کہ اس کی افادیت کو بڑھا دیتے ہیں-

1: پتے اور گردے کی پتھری کے لیے

عام طور پر پتے اور گردے کی پتھری کے سبب شدید درد ہوتا ہے اور ڈاکٹر اس کا علاج آپریشن ہی بتاتے ہیں مگر مولی کے صرف دو ہفتے تک استعمال سے یہ پتھری ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ختم ہو جاتی ہے- اس کے لیے ہر روز صبح دو ہفتے تک مولی کے رس کے دو کھانے کے چمچ نہار منہ پئيں اس سے پتھری ٹکڑے ٹکڑے ہو کر قدرتی طور پر نکل جاتی ہے-

2: یرقان کے مریضوں کے لیے

یرقان کے مریضوں کے لیے مولی کسی نعمت سے کم نہیں ہے کیوں کہ مولی جسم میں سے زہریلے مادوں کو خارج کر کے جگر کے افعال کو بہتر کرتا ہے- ایسے مریضوں کو مولی کے رس کا استعمال گڑ کے رس کے ساتھ ملا کر کرنا چاہیے اس سے نہ صرف یرقان کے اثرات ختم ہوتے ہیں بلکہ جگر صحت مند ہو جاتا ہے-

3: کھانسی کے لیے

کھانسی دو طرح کی ہوتی ہے جس میں سے ایک قسم خشک کھانسی کی ہوتی ہے جبکہ دوسری قسم بلغم والی کھانسی کی ہوتی ہے- مولی کا استعمال دونوں صورتوں مین مفید ثابت ہوتا ہے کیوں کہ یہ مغرج بلغم ہوتی ہے اس کے ساتھ ساتھ اس میں ایسے اجزا بھی موجود ہوتے ہیں جو کہ اندرونی سوزش کا خاتمہ کرتی ہے- اس لیے یہ خشک کھانسی کے لیے بھی مفید ہوتی ہے ایک چمچ مولی کے رس میں ہم وزن شہد شامل کر کے اس میں تھوڑا نمک ملاکر استعمال کرنے سے کھانسی میں فوری آرام حاصل ہوتا ہے-

4: کان کے درد کے لیے

کان میں ہونے والے درد کے لیے مولی کے رس کو ہم وزن روغن گل میں ابالیں اور اس وقت تک ابالیں جب تک کہ مولی کا پانی گرم ہو کر اڑ جائے اور صرف روغن گل رہ جائے- اس کے چند قطرے کان میں ٹپکانے سے کان کے درد کی صورت میں فوری آرام ملتا ہے-

5: قوت مدافعت بڑھاتی ہے

مولی کا استعمال ایک جانب تو ہاضمے کے عمل کو بہتر بناتی ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کے اندر موجود پوٹاشیم کی موجودگی اس کو ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوتی ہے- یہ عمومی صحت کو بحال کر کے انسان کی قوت مدافعت میں اضافہ کرتی ہے اور اس کو بیماریوں سے لڑنے کی طاقت فراہم کرتی ہے-

Tuesday, April 20, 2021

امتحانات کے دوران طلباء کے لیے ذہنی قوت بڑھانے والے 5 ضروری کھانے

 

مناسب کھانا کھانا دانش مندی ہے، کیا آپ نے لاکھوں بار یہ جملہ نہیں سنا؟

ٹھیک ہے ایسا ہی ہے، سچ یہ ہے کہ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ صحیح اور مناسب کھانا آپ کو دانش مند اور ذہین بناتا ہے۔

اس بات کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ مناسب کھانا کھانے سے آپ کے دماغ کو عمدہ غذائیت ملتی ہے اور آپ کی ذہنی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

کالج کے طلباء کے لیے اپنی اسٹوڈنٹ لائف میں تھکا دینے والی کلاسز اور دن رات کے مطالعے والی روٹین کے ساتھ زندگی کے اس مرحلے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔ کچھ مطالعات اور تحقیقی رپورٹس اس کی وضاحت کرتی ہیں کہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے آپ کے دماغ کو کس چیز کی ضرورت ہے۔

اگر ہم آپ سے پوچھیں کہ آپ اپنے کسی ٹیسٹ یا امتحانات کے دنوں میں اپنی ذہنی و جسمانی توانائی کو بڑھانے کے لیے کیا کھاتے یا پیتے ہیں، تو آپ کا جواب شاید انرجی ڈرنکس، شوگر سے لبریز اسنیکس، فیٹی یا لوکارب والی اشیا ہوں گی۔

تاہم یہ مضحکہ خیز اور اپنی صحت کو برباد کرنے کے مترادف ہے کیونکہ ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ ہم اس قسم کی اشیا کھانے پینے سے اپنے دماغ کو کس طرح سے غیر صحت مند  کر رہے ہیں جس کا نتیجہ ذہنی ناکارہ پن کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔

تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کالج کے طلبہ کے پاس ٹیسٹ یا کوئز سے پہلے کھانے کے بہترین آپشنز کیا ہیں؟

پڑھنے اور آن لائن کلاسیں لینے والے طلبا کے لیے، باقاعدہ کھانے یا ہلکی پھلکی غذا لینے کے آپشنز اتنے ہی اہم ہیں جتنا ان کے پاس جسمانی کلاسیں لینے کا انتخاب ہے۔

یہاں ہم نے پانچ ایسے عمدہ کھانے اور اسنیکس مرتب کیے ہیں جن کے بارے میں نیوٹریشنسٹس نے دماغ کے لیے مناسب خوراک تلاش کرنے کی تجویز کی ہے۔

تیل والی مچھلی، بیج اور گری دار میوے

امتحانات کے دوران طلباء کے لیے ذہنی قوت بڑھانے والے 5 ضروری کھانے

کچھ سمندری غذائیں یعنی سی فوڈز اومیگا 3 فیٹی آئل سے مالا مال ہوتی ہیں۔ سالمن، ٹراؤٹ، میکریل، ہیرنگ، سارڈینز، پیلچارڈس اور کیپرز صحت مند دماغی کام کے لیے ضروری آپشنز میں سے کچھ ہیں۔ اومیگا 3 کی کمی آپ کو تھکاوٹ اور ناقص یادداشت کا شکار کرسکتی ہے جو یونیورسٹی کے طالب علم کے لیے پریشانی کا باعث ہوسکتی ہے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کا جسم اومیگا 3 پیدا نہیں کرتا، لہٰذا آپ کو اسے اپنی غذا میں شامل کرنا ہوگا یعنی ایسی غذائوں کو اپنی خوراک میں شامل کریں جن میں اومیگا 3 پایا جاتا ہو۔ اور اگر آپ کو سمندری غذا پسند نہیں ہے تو پریشان نہ ہوں، ہمارے پاس اومیگا فیٹس 3 کا متبادل بھی موجود ہے۔ یہ السی یا فلیکسیڈ آئل، سویا بین آئل اور کدو کے بیجوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اخروٹ بھی اومیگا 3 سے بھرپور ہوتے ہیں، جو دل کو صحت مند اور سوزش سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ  صحت بخش غذائی اجزاء سے بھرے ہوئے اخروٹ خون کے بہاؤ کو بہتر کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں، دماغ کو زیادہ آکسیجن فراہم کرتے ہیں اور اس قابل بناتے ہیں کہ آپ اسسمنٹ کی تیاری کر سکیں۔

مٹھی بھر بیریز

امتحانات کے دوران طلباء کے لیے ذہنی قوت بڑھانے والے 5 ضروری کھانے

اسٹرابیری ابھی بھی سیزن میں ہیں اور جب یہ امتحانات کا وقت بھی ہے تو آپ کو چاہیے کہ اسٹرابیریز کھائیں جو آپ دماغ کو پاور بوسٹر دینے میں مدد کریں گی۔ بلیو بیری یا اسٹرابیری جیسے اینٹی آکسیڈینٹ سے بھرپور پھل فری ریڈیکلز کو کنٹرول میں رکھتے ہیں اور عمر کے ساتھ پیدا ہونے والی پریشان کُن ذہنی حالتوں کو دور کرتے ہیں۔

وٹامن سی سے بھرپور، صحت بخش ناشتے اور کھانے کھانے سے ذہنی قوت اور مشاہدے میں اضافہ ہوتا ہے، جو ایک طالب علم کے لیے آن لائن یونیورسٹی، امتحانات اور کورس ورکنگ کو احسن طریقے سے سر انجام دینے کے لیے ضروری ہے۔

بیر اور پھل بھی صحتمند شوگر سے مالا مال ہیں، جو آپ کو چاق و چوبند رکھنے اور توجہ دینے کی صلاحیت کو بڑھانے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔ اسے ذہنی توانائی کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن براہ کرم ہماری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں، جب ہم یہ کہتے ہیں کہ چینی کا مطلب آپ کی کینڈی، ڈبے والے جوس، یا آپ کا پسندیدہ سیریل نہیں ہے۔ اصل میں اس کا مطلب ہے کہ آپ کے جسم کی ضرورت کے مطابق گلوکوز آپ کو صحت مند اور قدرتی کاربوہائیڈریٹ کے ذرائع جیسے پھلوں اور تازہ جوس سے ملتا ہے۔

ڈارک چاکلیٹ بار

امتحانات کے دوران طلباء کے لیے ذہنی قوت بڑھانے والے 5 ضروری کھانے

ہاں، آپ نے اسے صحیح پڑھا یہ چاکلیٹ کا ایک بار ہے لیکن ذرا توقف کریں، یہ آپ کی ڈیری شوگر والی اور ذائقہ دار چاکلیٹ بار نہیں ہے۔ یہاں ڈارک کا مطلب کم شوگر ہے۔ لیکن ہم آپ کو یہ بھی مشورہ نہیں دے رہے ہیں کہ آپ اسے اپنے مطالعے کے لیے اسنیک بنالیں۔ اس کے بجائے اعتدال میں اسے کھایا جاسکتا ہے۔ ڈارک چاکلیٹ آپ کے دماغ کو تقویت بخش سکتی ہے اور آپ کو توجہ مرکوز کرنے میں مدد کرتی ہے۔

ہارورڈ کے ایک حالیہ مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ڈارک چاکلیٹ آپ کے دماغ میں بلڈ پریشر کو کم کرنے، خون کے بہاؤ کو بڑھانے اور دماغ کو مزید ایندھن لینے میں مدد فراہم کرسکتی ہے۔

اپنے امتحانات سے قبل ڈارک چاکلیٹ کا ایک ٹکڑا کھانا آپ کے دماغ کے لیے بطور انرجی بوسٹر مددگار ثابت ہوسکتا ہے جس سے آپ کو نہ صرف راحت ملتی ہے بلکہ توجہ مرکوز کرنے اور دھیان برقرار رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

ھول گرین بریڈ

امتحانات کے دوران طلباء کے لیے ذہنی قوت بڑھانے والے 5 ضروری کھانے

جب ہم اپنی جسمانی فلاح و بہبود اور صحت کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ھول گرین لازمی اجزاء کے طور پر نکل کر سامنے آتا ہے جو مجموعی طور پر صحت اور تن درستی کی ضمانت پیش کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ھول گرین یا سالم اناج میں موجود پیچیدہ کاربوہائیڈریٹ میں گلائسیمک انڈیکس کم ہوتا ہے، لہٰذا وہ آہستہ آہستہ ہضم ہوتے ہیں اور بدن میں تھوڑا تھوڑا گلوکوز چھوڑتے رہتے ہیں۔ سالم اناج ایک طویل مدت کے لیے آپ کے دماغ کو توانائی فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

مطالعات اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ ایک طالب علم جس نے اپنی غذا میں سالم اناج شامل کیا ہے اس کے پاس تادیر بحال رہنے والی توانائی ہوسکتی ہے اور وہ امتحانات کے طویل دنوں کی تیاری یا امتحانات کے دوران اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتا ہے۔ سالم اناج میں موجود ریشہ انسانی جسم میں کولیسٹرول کو متوازن رکھتا ہے اور دماغ اور دوسرے اعضاء میں خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں بھی مدد کرتا ہے۔

اپنے ناشتے میں سالم اناج لینا بہت اچھا ہے، جو دن کا سب سے اہم کھانا ہوتا ہے اور دن بھر آپ کے دماغی ایندھن کو محفوظ رکھ کر آپ کی ذہنی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔

ٹماٹر، بروکولی، پالک

امتحانات کے دوران طلباء کے لیے ذہنی قوت بڑھانے والے 5 ضروری کھانے

جب مشہور زمانہ کارٹون کردار پوپئے اپنے جسم کو توناائی دینے کے لیے پالک کھاتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس سے اسے انرجی بوسٹر ملتا ہے۔ پالک کی طرح ٹماٹر اور بروکولی بھی جسمانی صحت کے لیے بہت ضروری ہیں۔

ان تینوں چیزوں میں آئرن اور دیگر غذائی اجزاء بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں اور یہ ایک اعلیٰ توانائی کا بوسٹر پیک ہے جو آپ کے دماغ کی علمی افادیت کو برقرار رکھنے اور آپ کو توجہ مرکوز رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

اگر آپ اپنی گروسری خود ہی خریدتے ہیں تو یہ سپر فوڈز ہمیشہ آپ کی خریداری کی فہرست میں شامل ہونے چاہئیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ آپ اپنے امتحانات کے لیے سخت مشقت سے تیاری کرتے ہیں اور متوقع نتیجہ نہ ملنے کا صدمہ آپ پر تھکاوٹ، مایوسی اور ذہنی دباؤ ڈال سکتا ہے۔

صحت مند غذائوں کا استعمال آپ کے دماغ کو معیاری ایندھن فراہم کرتا ہے جبکہ آپ کی محنت کے ساتھ مل کر یہ آپ کو بہترین نتیجہ دے سکتا ہے۔

جب آپ یہ تمام ضروری چیزیں اپنے روزمرہ کھانے میں شامل کر رہے ہیں، تو کیا کوئی دوسرا کھانا ہے جو آپ کے لیے اپنی توانائی بڑھانے میں مدد کرتا ہے؟ تبصرے کے سیکشن میں ہمارے ساتھ ضرور شئیر کریں۔


Wednesday, April 14, 2021

الرجی ایک عام پائے جانے والی تکلیف دہ بیماری ہے جس میں مبتلاء شخص کو تکلیف کے ساتھ شرمندگی بھی اٹھانی پڑتی ہے اور اس کے ساتھ موسم کے بدلاؤسے اس میں شدت بھی پیدا ہوتی ہے اس لئے اس کا علاج بروقت کرانا ضروری ہوتا ہے

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )الرجی ایک عام پائے جانے والی تکلیف دہ بیماری ہے جس میں مبتلاء شخص کو تکلیف کے ساتھ شرمندگی بھی اٹھانی پڑتی ہے اور اس کے ساتھ موسم کے بدلاؤسے اس میں شدت بھی پیدا ہوتی ہے اس لئے اس کا علاج بروقت کرانا ضروری ہوتا ہے تا کہ

مزید پھیلاؤ سے محفوظ رہا جاسکے ۔ الرجی صرف جلد پر خارش ہونے کو نہیں کہتے ہیں بلکہ دوسری بیماریوں کی طرح الرجی بھی ایک عام بیماری ہے جو جینیاتی خرابی کی وجہ سے قوت مدافعت کمزور پڑنے کے سبب پیدا ہوتی ہے اور یہ جسم پر آہستہ آہستہ اپنا اثر دکھاتی ہے۔آج ہم آپ کے لئے الرجی کا ایک ایسا زبردست علاج لائے ہے کہ جس نے اس کو استعمال کیا ہے اس نے اس کی تعریف کی ہے ۔ اس نسخہ کو بنانے کے لیے ایلویرا جیل اور اس کے ساتھ مچھلی کا تیل چاہئے ہوتا ہے ۔بنانے اور استعمال کا طریقہ:اس کو بنانا نہایت آسان ہے آدھا کپ ایلویرا کا جیل حاصل کریں اور اس میں مچھلی کا تیل 2 چائے کا چمچ ڈالیں اور ان کو یکجان کریں ۔ اس کو دن میں حسب ضرورت متاثرہ جگہ پر لگائیں یا رات کو سونے سے پہلے نیم گرم پانی سے نہائیں اور پھر جسم کو خشک کرنے کے بعد اس آئل کو استعمال کریں اس سے ہر طرح کی الرجی ختم ہو جاتی ہے۔


 ٹوکیو: یونیورسٹی آف سوکوبا کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اگر باقاعدہ ورزش کی جائے اور وزن کم کیا جائے تو اس سے جگر کی بظاہر عام لیکن خطرناک بیماری ’نان الکوحلک فیٹی لیور‘ بیماری میں کمی کی جاسکتی ہے۔ مطلب یہ کہ ورزش جگر کے لیے بہت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

دنیا میں چوتھائی سے زائد آبادی ’نان الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز (این اے ایف ایل ڈٰی) کی شکار ہے لیکن یہ کیفیت آگے چل کرجگر کی مزید بیماریوں کی وجہ بن سکتی ہے۔ یہاں تک کہ جگر فیل بھی ہوسکتا ہے۔ اس طرح ورزش اس کیفیت کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔


صرف جاپان میں ہی درمیانی عمر کے 41 فیصد افراد این اے ایف ایل ڈی میں مبتلا ہے۔ اس کے لیے سوکوبا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے پروفیسر جیونیکی شودا نے این اے ایف ایل ڈی میں مبتلا کئی افراد کو غذائی پلان دیا اور انہیں ورزش بھی کروائی۔ اس میں جگر کے کئی عوامل مثلاً ایڈائپوز ٹشو میں کمی، پٹھوں کی قوت، جلن اور آکسیڈیٹوو اسٹریس اور خاص جینز (این آر ایف ٹو) کی سرگرمی کو نوٹ کیا گیا۔انکشاف ہوا کہ ورزش سے ایک جانب تو پٹھے مضبوط ہوئے اور بڑی حد تک بدن کی چربی میں کمی واقع ہوئی۔ اس طرح جگر اسٹیٹوسِس یں 9 فیصد، جگر کی سختی میں قریباً 7 فیصد کمی واقع ہوئی۔ ایک قسم کے لیور فائبروسِس میں 16 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔

ورزش کی بدولت جگر کے کئی مفید کیمیکل بڑھے اور جگر کو سرگرم رکھنے والے کیوپفر خلیات میں بھی اضافہ ہوا۔ پروفیسر جیونیکی شودا کہتے ہیں کہ ورزش کے جگر پر فوائد بالکل واضح ہیں۔ یہ این اے ایف ایل ڈی کی کیفیت میں فائبروسِس اور لیور اسٹیٹوسِس کو روکتی ہے۔

لیکن ماہرین کا مشورہ ہے کہ بہتر فوائد کے لیے ضروری ہے کہ سخت یا درمیانی شدت کی ورزش کی جائے جس کے فوائد جلد ہی سامنے آنے لگتے ہیں۔

Tuesday, April 13, 2021

بدلتے ہوئے ماحول کا نفسیاتی دباؤ، روزگار کا دباؤ، گھریلو ذمے داریاں اور معاشرتی امور ملکر خواتین کی صحت پر برا اثر ڈال رہے ہیں اور وہ امراضِ قلب بالخصوص کارڈیو ویسکیولر بیماریوں کی شکار ہورہی ہیں۔ ۔

 رہا ہے۔ فوٹو: فائل

پنسلوانیا: بدلتے ہوئے ماحول کا نفسیاتی دباؤ، روزگار کا دباؤ، گھریلو ذمے داریاں اور معاشرتی امور ملکر خواتین کی صحت پر برا اثر ڈال رہے ہیں اور وہ امراضِ قلب بالخصوص کارڈیو ویسکیولر بیماریوں کی شکار ہورہی ہیں۔

یہ مطالعہ ڈریکسل یونیورسٹی میں واقع ڈورنسائف اسکول آف پبلک ہیلتھ کے سائنسدانوں نے کیا ہے۔ اس مطالعے میں ملازمت اور معاشرتی دباؤ کا بطورِ خاص مطالعہ کیا ہے۔ یعنی معاشرتی رابطے اور رشتے نبھانے کا کرب اور کام کی پریشانی مجموعی طور پر دوہری چوٹ کا کام کرتی ہیں اور اس طرح خواتین میں دیگر کے مقابلے میں دل کا مریض بننے کا خطرہ 21 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہ تحقیق امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ شریکِ حیات کی موت، طلاق و علیحدگی، گھر یا سسرالیوں کے طعنے تشنے، سماجی دباؤ جیسے نفسیاتی عوامل انفرادی طور پر خواتین کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دفتر کا زہریلا ماحول، کام کا دباؤ، ناانصافی اور دیگر مسائل خواتین کو مزید مایوسی اور بیماری کی جانب دھکیلتے ہیں۔ یہ کیفیات الگ الگ 9 سے لے کر 12 فیصد تک دل کی بیماریوں کی وجہ بن سکتے ہیں۔


اس مطالعے میں 80 ہزار سے زائد خواتین کا جائزہ لیا گیا جو سن یاس (مینوپاز) سے گزرچکی تھیں۔ ان سب کا 1991 سے 2015 تک جائزہ لیا گیا ہے۔ وقفے وقفے سے ان خواتین میں معاشرتی نفسیاتی دباؤ، بالخصوص ملازمت کا تناؤ دیکھا گیا اور دیگر معاشرتی عوامل کا جائزہ بھی لیا گیا۔

پورے مطالعے کے 14 برس میں 5 فیصد خواتین دل کی مریضہ بن چکی تھیں۔ ان میں تمام عوامل کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ معاشی اور ملازمتی دباؤ کا اس بیماری میں 12 فیصد کردار ہے یعنی یہ عوامل مرض کے امکان کو 12 فیصد تک بڑھا سکتے ہیں۔ معاشرتی دباؤ کا کردار 9 فیصد دیکھا گیا۔

امریکہ میں خون کی رگوں کے امراض اموات کی بڑی وجہ ہیں۔ اس میں دل کی بڑی نالیاں سکڑ جاتی ہیں یا بند ہوجاتی ہیں اور خون دل تک آکسیجن اور خون نہیں پہنچ پاتا۔ تاہم اس پہلو کی پرانی تحقیقات سے بھی تصدیق ہوتی ہیں جن میں ملازمتی دباؤ کو خواتین کے لیے بہت نقصاندہ بتایا گیا تھا۔

ماہرین نے خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو وہ کام کے دباؤ اور معاشرتی تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کریں۔

Sunday, April 11, 2021

ادرک کئی بیماریوں کا شفا بخش علاج۔۔۔



غذائیت اور فوائد سے بھرپور جڑ کی شکل والی یہ سبزی انسانی صحت کے لئے کئی فوائد اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
زکام،فلو،گلے کی خراش
ادرک بہت سارے ایشیائی ممالک میں سردی اور فلو کے خلاف قدرتی دوا کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔جرنل آف ایتھنوفرماکولوجی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تازہ ادرک میں سانس کی نالیوں کے انفیکشن کے خلاف اینٹی وائرل خصوصیات پائی جاتی ہیں۔

یہ گلے کی سوجن اور کھانسی سے نجات دلانے کے لئے چائے کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔
متلی کی کیفیت سے نجات
نیوٹریشن جنرل کی تحقیق کے مطابق ادرک کا استعمال متلی اور قے کی کیفیت سے نجات دیتا ہے۔زمانہ قدیم سے اسے معدے کے مسائل اور سمندری سفر کے دوران طبیعت کی خرابی دور کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

ہاضمے کے لئے مفید
ادرک کو نظام ہاضمہ کو درست رکھنے کے لئے چینی طب میں نمایاں مقام حاصل ہے۔

یہ شوگر کی اعلیٰ سطح کو منظم کرنے اور پیٹ کو آرام فراہم کرنے میں مدد کرتا ہے۔کھانے میں موجود جسم کے لئے مفید اجزاء کو علیحدہ کرنے میں بھی ادرک کارآمد ہے۔
گیس کے مسائل
گیس کے مسائل میں مبتلا افراد ادرک کے استعمال سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ادرک کا چھوٹا سا ٹکڑا چبانے سے جسم میں موجود غیر ضروری گیس فطری طریقے سے خارج ہو جاتی ہے جبکہ اس کے روزانہ استعمال سے اضافی گیس بھی نہیں بنتی۔


جگر کے لئے مفید
ٹیوبر کلاسیس (ٹی بی) کی بیماری میں مبتلا افراد ادرک کے استعمال سے بہت فوائد اٹھا سکتے ہیں کیونکہ یہ ہیپا ٹو ٹو کسیٹی سے بچاتی ہے۔
موٹاپے سے بچائے
ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ادرک وزن میں کمی کرنے کے عمل کو تیز کرتا ہے اور موٹاپے کے خلاف آپ کی میٹابولزم کو بھی مضبوط کرتا ہے۔


دل کی صحت کے لئے مفید
ادرک جسم میں کولیسٹر آئل کے لیول کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے دل کی صحت اچھی رہتی ہے۔
ذیابیطس کو کنٹرول کرے
ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا افراد میں ادرک بلڈ شوگر کی سطح کو منظم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
جلد کے لئے مفید
ادرک کی چائے کا روزانہ استعمال کئی دیگر بیماریوں کے ساتھ ساتھ جلد کی بیماریوں سے بچاتا ہے۔


دمہ میں آرام
صدیوں سے ادرک کو تنفس کے مسائل کا حل سمجھا جاتا ہے۔جدید سائنسی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ادرک سانس کی نالیوں میں موجود سوزش کو ختم کرتی ہے جس کے نتیجے میں دمہ میں افاقہ ہوتا ہے۔
ادرک کی چائے
کئی لوگ گھروں میں ادرک کی چائے کئی طریقے سے بناتے ہیں اور تقریباً سارے ہی ٹھیک ہیں۔

اس آرٹیکل میں ایک آسان طریقہ درج ذیل ہے۔تازہ ادرک کو اچھی طرح دھو کر صاف کر لیں۔اسے چھیلنے کی ضرورت نہیں،اسے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں ایک کپ چائے کے لئے ایک انچ ادرک کا ٹکڑا کافی ہے۔کسی برتن میں ایک سلائس ادرک اور ایک کپ پانی ڈال کر تیز آنچ پر پانی میں اُبال آنے تک پکائیں اور جب پانی اُبلنے لگے تو آنچ کو ہلکا کر دیں اور پانچ منٹ تک یا اگر تیز ذائقہ چاہتے ہیں تو دس منٹ تک پکائیں اور پھر کسی موٹی چھلنی میں اسے چھان لیں۔ادرک کا قہوہ تیار ہے۔

Sunday, April 4, 2021

ڈپریشن آج کل ایک عام لفظ سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔

 ڈپریشن آج کل ایک عام لفظ سمجھا جاتا ہے۔ہر روز مرہ کی زندگی میں آپ ہر چھوٹے بڑے سے اس کا ذکر سنتے ہیں۔اگر کسی کو سچ میں ڈپریشن ہے۔تو جان لے یہ خاموش قاتل ہے۔اصل میں یہ ایک ذہنی حالت ہے۔جس کو ہم Mood Disorder بھی کہہ سکتے ہیں۔ جب بھی ہم مایوس یا اداس ہوتے ہیں۔جس کی مندرجہ ذیل علامات ہو سکتی ہیں۔عموماً یہ علامات ایک یا دو ہفتے میں ٹھیک ہو جاتی ہیں۔

ڈپریشن کا شکار لوگ اکثر افسردہ نظر آتے ہیں۔عام طور پہ ہم خود ہی اس اداسی کا مقابلہ کر لیتے ہیں۔دوستوں سے بات چیت کرکے یہ اداسی ٹھیک ہو جاتی ہے۔اس میں کسی علاج کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔لیکن اگر یہ افسردگی یا اداسی لمبے عرصے تک قائم رہے تو بیماری بن جاتی ہے۔اور اس کا اثر روز مرہ زندگی پہ پڑنے لگے اور معمولات زندگی اس سے متاثر ہو نے لگے۔

(جاری ہے)


تو یہ ڈپریشن میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
ڈپریشن میں کیسا محسوس ہوتا ہے؟
اس بیماری کی شدت اتنی زیادہ ہوتی ہے ،ڈپریشن کی بیماری کی شدت عام اداسی کے مقابلے میں جو ہم سب وقتاً فوقتاً

محسوس کرتے ہیں، کہیں زیادہ اور گہری اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔اس کا دورانیہ عام اداسی سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔اور مہینوں تک چلتا ہے۔ضروری نہیں کہ ہر شخص میں ایک جیسی علامات ہوں۔

لیکن اگر ان میں سے کوئی سی چار علامات موجود ہوں تو اس بات کا امکان ہے کہ آپ ڈپریشن کے مریض بن چکے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق دنیا میں 300 ملین سے زیادہ افراد اس میں مبتلا ہیں۔یہ ایک عام ذہنی بیماری ہے۔جس کا تعلق Bipolar Disorder سے ہے۔اس کو موڈ Disorder بھی کہہ سکتے ہیں۔اس کے اثرات اگر کم نہ کئے جائیں تو یہ بیماری دیرپا اور بار بار پلٹ کے آنے والی بیماری بن جاتی ہے۔

کسی بھی فرد کی عام زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔اداسی ۔احساس کمتری،کسی خوشی میں،حد سے زیادہ خوش ہونا۔یا حد سے زیادہ غمگین ہونا ہے۔اس سب صلاحیتوں پر ڈپریشن کی وجہ سے مسئلہ بڑھ سکتا ہے۔کسی کام میں دلچسپی نہ لینا۔اداس رہنا۔چڑچڑاپن پیدا ہونا۔
شدید اور کم شدید علامات ہو سکتی ہیں۔جن میں افسردہ رہنا۔اشتعال انگیزی۔وزن میں کمی۔یا زیادتی۔

نیند میں کمی یا زیادتی،طاقت میں کمی یا زیادتی،تھکاوٹ میں کمی یا زیادتی۔کسی خاص حرکت کا ضرورت سے زیادہ ہونا۔مثلاً ٹانگ ہلانا،ہاتھ چلانا،آنکھ جھپکنا۔قوت فیصلہ میں کمی یا دشواری،یہاں تک کی خودکشی کی کوشش،موت۔ان علامات کا اثر کم از کم دو ہفتے تک اور زیادہ سے زیادہ کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔اگر کلائینٹ کی مرضی ہو تو جلدی ٹھیک ہو سکتا ہے۔

ڈپریشن کی ایک بڑی وجہ۔زندگی کا کوئی حادثہ یا واقعہ بھی ہو سکتی ہے۔جیسے کسی عزیز کی موت،یا ملازمت کا چھٹ جانا۔کسی محبت کرنے والے کا کھو جانا۔ڈپریشن کا باعث بنتا ہے۔البتہ یہ جذبات عارضی بھی ہو سکتے ہیں۔جو کسی بھی نارمل انسان کو زندگی میں پیش آسکتے ہیں۔ان کا آنا کوئی ابنار میلٹی نہیں ہے۔البتہ ان پہ قابو پانے کی صلاحیت کا ہونا بے حد ضروری ہے۔

ایسی حالت اگر مسلسل رہے۔تو ماہرین اس کو ڈپریشن کا نام دیتے ہیں۔اگر یہ حالت دو ہفتے تک برقرار رہے۔تو کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہیے۔اس کا عرصہ مہینوں اور سالوں تک رہ سکتا ہے۔انسان جو دکھ برداشت نہیں کر سکتا وہ اس کو ڈپریشن کا مریض بنا سکتا ہے ۔عام طور پہ لوگ زیادہ خوشی سے ڈپریشن نہیں ہوتے۔لیکن کبھی کبھار کوئی خوشی بھی قابل برداشت نہیں ہوتی۔

مثلاً اچانک کسی غریب آدمی کا ایک کڑور کا بانڈ نکل آئے۔تو وہ خوشی سے بے قابو ہو سکتا ہے۔غم کی حالت میں دکھی ہو کر اکثر لوگ ڈپریشن ہو جاتے ہیں۔اگر دکھ یا غم قلیل مدت رہے۔تو اس کو ڈپریشن نہیں کہتے۔دکھ اور غم دونوں میں ڈپریشن ہو سکتا ہے۔غم اور تکلیف میں اکثر ہم اپنے ماضی کی اچھی یاداشت کو Recall کرتے ہیں۔جس دور میں ہم بہت خوش ہوتے ہیں۔اس سے ہم کو موجودہ صورت حال میں قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔

ہماری خود اعتمادی اس پر کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے۔
مینک ڈپریشن یا بائی پولر ڈس آرڈر کیا ہے؟
جن لوگوں کو شدید ڈپریشن ہوتا ہے۔ان میں تقریباً دس فیصد لوگوں کو تیزی کے دورے پڑتے ہیں۔جن میں کچھ لوگ بہت زیادہ خوش نظر آتے ہیں۔یا کچھ لوگ روتے ہوئے نظر آتے ہیں۔کچھ لوگ نارمیلٹی سے ہٹ کر بہت زیادہ کام کرتے ہیں۔اور تھکتے نہیں۔

یا کچھ لوگ کام کا نام سن کر ہی تھک جاتے ہیں۔اس تیزی کے دورے کو Manic کہتے ہیں ۔اور بیماری کو Disorder bipolar کہتے ہیں۔یہ بیماری مردوں اور عورتوں میں برابر ہی پائی جاتی ہے۔یہ موروثی بھی ہے کچھ خاندانوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔
کیا ڈپریشن انسان کی ذاتی کمزوری کا دوسرا نام ہے؟
جس طرح شوگر،بلڈ پریشر بیماریاں ہیں۔اسی طرح ڈپریشن بھی ایک بیماری ہے۔

جو قابل علاج ہے۔یہ بیماری کسی بھی انسان کو ہو سکتی ہے ۔اور کبھی بھی ہو سکتی ہے۔کوئی کتنا بھی مضبوط انسان کیوں نہ ہو۔جس طرح عام بیماریوں کے انسان کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس میں بھی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔نہ کہ مذاق اڑانے کی۔
ڈپریشن میں اپنی مدد آپ کریں
اپنی جذباتی کیفیت کو راز نہ رکھیں،اگر آپ کوئی بری خبر سنتے ہیں تو اس کو کسی قریبی دوست یا رشتہ دار سے ضرور شیئر کریں۔

اکثر غم کی باتوں کو کسی قریبی سے بار بار دھرانے سے ان کی شدت کم ہو جاتی ہے۔یا ایک حل یہ بھی ہے۔کہ رو لینے سے دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے۔کسی عزیز سے بات کر لینے سے دل کا بوجھ کم ہو جاتا ہے۔اپنے آپ خود کو یاد دلاتے رہیں۔آپ جس تجربے سے گزر رہے ہیں۔اس سے لوگ بھی گزر چکے ہیں۔ایک نہ ایک دن آپ کا ڈپریشن بھی ختم ہو جائے گا۔چاہے ابھی یہ ممکن نہیں لگ رہا۔

ہمیشہ مثبت سوچیں۔
جسمانی کام یا ورزش
کوئی نہ کوئی ورزش کرتے رہنا چاہیے۔چاہے وہ آدھا گھنٹہ واک ہی کیوں نہ ہو۔ورزش سے انسان کی جسمانی صحت بھی ٹھیک رہتی ہے۔ اور نیند بھی بہتر ہوتی ہے۔اپنے آپ کو ویسے بھی کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھیں۔چاہے گھر کے ہی کسی کام میں خود کو مصروف کر لیں۔اس سے انسان تکلیف دہ خیالات سے بچا رہتا ہے۔

ورزش کرنا باقاعدگی سے ورزش ڈپریشن کے علاج میں مدد دیتی ہے۔یہ نہ صرف بہتر دماغ کے نئے خلیوں اور رابطوں کی نشوونما کو بھی متحرک کرتی ہے۔جسے ہم اینٹی ڈپریشن کہتے ہیں۔روزانہ آدھے گھنٹے کی واک میں بھی بہت فرق پڑتا ہے۔
ماحولیاتی عوامل
تشدد نظر اندازی۔بدسلوکی اور غربت کچھ لوگوں کو اس کا شکار بنا دیتی ہے۔نوکری نہ ملنا،کوئی رشتہ ٹوٹ جانا۔

کوئی نقصان ہو جانا۔
معاشرتی روابط
مضبوط سوشل نیٹ ورک تنہائی کم کرتے ہیں۔جو ڈپریشن کی اہم وجہ ہے۔دوستوں اور فیملی کے ساتھ رابطہ میں رہیں۔کسی کلاس۔یا گروپ کو جوائن کر لیں۔رضا کا دانہ خدمات معاشرتی مددحاصل کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کا ایک بہت اچھا طریقہ ہے۔جو اصل میں آپ خود کی مدد کر رہے ہوتے ہیں۔ذہنی اور جسمانی سکون کے لئے۔


اچھی خوراک
اچھی اور ہلکی غذا کو اچھی طرح کھایا جائے۔آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت کو برقرار رکھتاہے۔دن بھر کام کرنے کے لئے متوازن غذا سے توانائی برقرار رہتی ہے۔اور موڈ بھی اچھا رہتا ہے۔متوازن غذا کھانا بہت ضروری ہے۔چاہے آپ کا دل کھانے کو نہ کر رہا ہو۔تازہ پھلوں اور سبزیوں سے سب سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ڈپریشن میں لوگ کھانا کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔

جس سے جسم میں وٹامنز کی کمی آجاتی ہے۔ اور طبیعت زیادہ خراب ہونے لگتی ہے۔
کونسلنگ
اگر آپ میں ڈپریشن کی علامات کا کوئی بنیادی سبب موجود نہیں ہے۔تو ٹاک تھیراپی انتہائی کامیاب اور موٴثر علاج ہے۔جس میں آپ کو بہتر محسوس کرنے کی مہارت اور بصیرت فراہم کی جاتی ہے۔یہ ڈپریشن کو پلٹ کر واپس آنے سے بھی روکتا ہے۔منفی سوچ کو رد کرتا ہے۔

ڈپریشن کو مقابلہ کرنے کی تکنیک Coping سکھاتا ہے۔جو ڈپریشن کی وجہ جان لینا اور اس کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے۔آپ کو سکھاتا ہے ۔کہ آپ کیسے صحت مند رہ سکتے ہیں۔Counsellingیا مشاورت اس کی بہترین مثال ہے۔
ادویات سے علاج
ذہنی دباؤ کا بنیادی علاج دوائی سے ہوتا ہے۔Antidepressant Medicines کے استعمال کے بارے لوگوں کی بہت سی Myths ہیں۔

ان دواؤں میں اعتدال رکھنا ضروری ہے۔جب ضرورت ہو لی جائے۔ورنہ ڈاکٹر کے مشورے سے بند یا کم کر دی جائے ۔آپ کا ڈاکٹر نفسیاتی علاج کے ساتھ دوائی بھی لکھ کر دے سکتا ہے۔ان دواؤں کو کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔مگر ڈاکٹرکی ہدایت کے مطابق۔زیادہ شدید ذہی دباؤ میں یہ کھانی ضروری ہو جاتی ہے۔اس میں موڈ اسٹبلائزر،اینٹی سائکوئک،منشیات اور اینٹی ڈیپریسنٹ دوائی دی جا سکتی ہے۔

یا سب کو ملا کر بھی دیا جاسکتا ہے۔اگر آپ اس کے لئے دوائی لینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔تو ابھی ساتھ ساتھ کونسلنگ اور ٹاک تھیراپی کو نظر انداز نہ کریں۔زندگی میں بدلاؤ یا ٹھہراؤ نہ صرف تیزی سے ڈپریشن کو کم کرتاہے۔بلکہ بیماری کو پلٹ کر آنے سے بھی روکتا ہے۔اس میں ورزش بہت ضروری ہے۔سگریٹ نوشی اور الکحل سے پرہیز کریں۔یہ اس حالت سے نجات میں مدد دیتے ہیں۔

کم از کم 6 گھنٹے نیند ضرور پوری کرنی چاہیے۔اس سے صحت پہ مثبت اثرات پڑتے ہیں۔صحت مند اور کم غذا کھائیں۔علاج ڈپریشن کی شدت پہ منحصر ہے۔ علاج میں کچھ ہفتے یا زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔بہت سے معاملات میں 10-15 سیشن میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔ڈپریشن کو مذاق نہ سمجھیں۔یہ ایک وقتی بیماری ہے۔تشخیص اور علاج سے ڈپریشن کے شکار لوگوں کی اکثریت اس پر قابو پا لیتی ہے۔اگر آپ کسی بھی قسم کے ڈپریشن کا شکار ہیں۔آپ ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں۔اپنے خدشات کے بارے میں بات کریں۔ذہنی صحت کی بحالی کے لئے ضروری ہے۔احتیاط کیجئے۔زندگی سے پیار کیجئے۔

بہت عرصہ تک کاجل لگائیں تو آنکھوں کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔۔۔کاجل کے نقصانات جو ہم نہیں جانتے

بہت عرصہ تک کاجل لگائیں تو آنکھوں کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔۔۔کاجل کے نقصانات جو ہم نہیں جانتے زمانہ قدیم سے میک اپ اور خوبصورتی کو بڑھانے ک...